Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1708

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَا عَلَی المَيِّتِ ثَلَاثَ حَثِيَّاتٍ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا وَأَنَّهٗ رَشَّ عَلیٰ قَبْرِ ابْنِهٖ إِبْرَاهِيمَ وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَى الشَّافِعِيُّ مِنْ قَوْلِهٖ: “رَشَّ”

وعن جعفر بن محمد عن أبيه مرسلا أن النبي صلى الله عليه وسلم حثا علی الميت ثلاث حثيات بيديه جميعا وأنه رش علی قبر ابنه إبراهيم ووضع عليه حصباء. رواه في شرح السنة وروى الشافعي من قوله: “رش”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے وہ اپنے بآپ سے مرسلًا راوی ۱∞؎کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے میت پر اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپ ڈالے ۲؎اور اپنے فرزند ابراہیم کی قبر پر چھڑکاؤ کیا اور اس پرکنکر بچھائے ۳؎(شرح سنہ)اور شافعی نےرشّسے۔

شرح حدیث

۱∞؎امام جعفر صادق کے والد کا نام محمد باقر ہے،چونکہ انہوں نے حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو دیکھا نہیں اور یہاں صحابہ کا نام لیا نہیں اس لیئے یہ حدیث مرسل ہے۔غالبًا وہ صحابی حضرت جابر ہوں گےکیونکہ امام باقر اکثر ان سے روایتیں لیتے ہیں۔۲؎مٹی کے۔امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ پہلے لپ پر پڑھتے"مِنْہَاخَلَقْنٰکُمْ"اور دوسرے پر پڑھتے"وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ"اور تیسرے پر پڑھتے"وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰیچنانچہ میت کو تین لپ مٹی دینا بھی سنت ہے اور یہ پڑھنا بھی۔۳؎علماء فرماتے ہیں کہ بعد دفن قبر پر ٹھنڈا اور پاک پانی چھڑکے نیک فال کے لیئے کہ الله میت کو پاک اور قبر کو ٹھنڈا کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر کو بالکل کچا رکھنا ضروری نہیں،اس پر بجری کنکریٹ ڈال سکتے ہیں،ہاں عام قبروں کو چونا گچ سے پختہ نہ کیا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1708