Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1703

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: “اِحْفُرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِيْ قَبْرِ وَاحِدٍ وَقَدِّمُوْا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا” . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهِ وَأَحْسِنُوْا

وعن هشام بن عامر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم أحد: “احفروا وأوسعوا وأعمقوا وأحسنوا وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر واحد وقدموا أكثرهم قرآنا” . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وروى ابن ماجه إلى قوله وأحسنوا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ہشام ابن عامر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا کہ چوڑی،گہری اور اچھی قبر کھودو ۱∞؎اور ایک قبر میں دو دو تین تین دفن کرو جن میں زیادہ قرآن والوں کو آگے رکھو۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابن ماجہ نےاحسنواتک۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ مردے کے لیئے قبر خوب چوڑی ہو جس میں جسم پھنسے نہیں اور گہری ہو،گہرائی مردے کے قد کے برابر یا کھڑے ہونے میں سینہ کے برابر ہو اور قبر کو اندر سے خوب صاف کردیا جائے اس میں کوئی کنکر کانٹا نہ ہواحسنوااس جانب اشارہ ہے بعض عشاق فرماتے ہیں کہ قبر اتنی گہری ہونی چاہیے کہ مردہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑا ہوسکے۔۲؎یہ حکم اس لیئے تھا کہ کپڑا بہت کم تھا ایک ایک چادر میں کئی کئی شہید دفن کیے گئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1703