Main Icon

باب : میت کے دفن کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1711

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ ابْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهٖ فَدُفِنَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهٗ بِحَجَرٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهَا فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ. قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهٖ وَقَالَ: “أَعَلِمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهلِي” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن المطلب بن أبي وداعة قال: لما مات عثمان ابن مظعون أخرج بجنازته فدفن أمر النبي صلى الله عليه وسلم رجلا أن يأتيه بحجر فلم يستطع حملها فقام إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وحسر عن ذراعيه. قال المطلب: قال الذي يخبرني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم : كأني أنظر إلى بياض ذراعي رسول الله صلى الله عليه وسلم حين حسر عنهما ثم حملها فوضعها عند رأسه وقال: “أعلم بها قبر أخي وأدفن إليه من مات من أهلي” . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مطّلب ابن ابی وداعہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں حضرت عثمان ابن مظعون فوت ہوئے ان کا جنازہ لاکر دفن کیا گیا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایک شخص کو پتھرلانے کا حکم دیا وہ اسے اٹھا نہ سکا ۲؎تب خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم ادھرتشریف لے گئے اپنی آستینیں چڑھائیں مطلب کہتے ہیں کہ جس نے مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس واقعہ کی خبر دی وہ کہتے تھے گویا میں اب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی کہنیاں دیکھ رہا ہوں جب کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں کھولا پھر پتھر اٹھایا اور اسے قبر کے سرہانے رکھ دیا۳؎اور فرمایا کہ میں اس سے اپنے بھائی کی قبر کا نشان لگاتا ہوں اور انہی کے پاس اپنے فوت ہونے والے گھر والوں کو دفن کردوں گا۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قریشی ہیں،فتح مکہ کے دن اسلام لائے،ابوداؤد میں مطلب ابن عبد الله مدنی ہے،وہ مخذومی ہیں،تابعی ہیں۔۲؎کیونکہ بہت اونچا اور بھاری تھا اور جو کا م دوسروں سے نہ ہوسکتا تھا حضور انورصلی الله علیہ وسلم کرتے تھے۔۳؎یا تو قبر سے علیٰحدہ سرہانے کے پاس کھڑا کردیا یا خود قبر کے سرہانے گاڑھ دیا،دوسرے احتمال کی تائید بخاری شریف کی روایت سے ہوتی ہے کہ حضرت خارجہ کہتے ہیں ہم میں بڑا بہادر وہ تھا جو قبرعثمانی کو پھلانگ جاتا،یعنی قبر بہت اونچی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ قبر کو پتھر سے پختہ کر سکتے ہیں،ہاں پکی اینٹ چونے گچ وغیرہ سے بچے۔۴؎حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابن مظعون کو اپنا بھائی یا تو اس لیئے فرمایا کہ وہ قریشی ہیں اورقومی بھائی ہیں کیونکہ آپ ابن مظعون ابن حبیب ابن وہب ہیں،قرشی جمحی میں یا اس لیئے کہ آپ حضور صلی الله علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں،حضور انور نے ان کے بعد اپنے فرزند ابراہیم کو وہاں ہی دفن کیا،پھر اپنی صاحب زادی زینب کو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1711