Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1426

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى الَى المُصَلِّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهٖ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلیٰ صُفُوفِهِمْ فَيَعِظُهُمْ وَيُوصِيهِمْ وَيَأْمُرُهُمْ وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهٗ أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهٖ ثمَّ يَنْصَرِفَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي سعيد الخدري قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى الى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس علی صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم وإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه أو يأمر بشيء أمر به ثم ينصرف(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم عید بقرعید کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے ۱∞؎تو پہلی چیز جس سے شروع فرماتے نماز ہوتی پھر لوگ فارغ ہوتے تو لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے ۲؎انہیں نصیحت اور وصیت فرماتے احکام دیتے اور لشکر چھانٹنے کا ارادہ ہوتا تو وہاں ہی چھانٹ لیتے یا کچھ حکم کرنا چاہتے تو اس کا حکم کرتے پھر واپس ہوتے ۳؎(مسلم ،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جو شہر سے باہر جگہ تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ نماز عیدین جنگل میں افضل ہے،دیکھو حضور صلی الله علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں نماز عید پڑھی،حالانکہ وہ جگہ تمام مسجدوں سے بہتر ہےاِلَّامسجد حرام،اب مدینہ پاک میں عیدگاہ مشہور ہے۔۲؎یعنی نماز عید پہلے پڑھتے خطبہ بعد میں مگر خطبۂ عید منبر پر نہ تھا کیونکہ اس زمانہ میں نہ تو عیدگاہ میں منبر بنا نہ مسجدنبوی سے وہاں پہنچایا گیا اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ عیدگاہ کا منبر بدعت حسنہ ہے۔فتح القدیر میں ہے کہ وہاں منبربناناجائز ہے مگر شہر سے لے جانا ممنوع و مکروہ،وہاں کے منبر کا موجد مروان ابن حکم ہے۔۳؎سبحان الله!ہماری مسجدیں اور عیدگاہ سیاست و عبادت کا مرکز تھیں،وہیں سے غازی بنتے تھے،وہیں سے نمازی۔مطلب یہ ہے کہ عیدگاہ میں ہی سپاہیوں کی بھرتی ہوجاتی اور وہاں سے ہی لشکر اسلام کی روانگی تاریخیں مقرر ہو جاتیں مگر یہ تمام کام خطبہ کے بعد ہوتے نہ کہ دورانِ خطبہ میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1426