Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1448

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْہُ أَنَّهٗ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَصَلّٰى بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعنہ أنه أصابهم مطر في يوم عيد فصلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم صلاة العيد في المسجد. رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے ایک بارعید کے دن بارش ہوگئی تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں نمازعیدمسجدمیں پڑھائی ۱∞؎(ابو داؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ ہمیشہ نمازعیدجنگل میں پڑھاتے تھے لیکن ایک بار بارش ہوگئی تو لوگوں کوجنگل جانابھی گراں تھا اور وہاں کوئی جگہ سایہ داربھی نہ تھی اس لیے مسجدنبوی میں عید پڑھائی گئی۔علماء فرماتے ہیں کہ ہمیشہ ہر جگہ نمازعیدجنگل میں پڑھنا بہتر ہے سوائے بارش کے،ہاں مکہ معظمہ میں یہ نماز بھی حرم شریف میں افضل،مسلمانوں کا اسی پر ہمیشہ سے عمل رہا،صحابہ اور دیگر علماء نے اس پرکبھی اعتراض نہ کیاحتی کہ نمازجنازہ،استسقاءوغیرہ بھی حرم شریف میں بلاکراہت جائز ہیں،دوسری مساجدمیں نماز جنازہ مکروہ ہے،امام سیوطی نے درالمنثور میں فرمایا کہ آدم علیہ السلام کی نمازجنازہ دروازہ کعبہ کے پاس پڑھی گئی۔(ازمرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1448