Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1450

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَةٍ لَهٗ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ رَكْبًا جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْهَدُونَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بالْأَمْسِ فَأَمَرَهُمْ أَن يفطروا وَإِذا أَصْبحُوا أَن يَغْدُو إِلٰى مصلاهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِي

وعن أبي عمير بن أنس عن عمومة له من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم : أن ركبا جاءوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمرهم أن يفطروا وإذا أصبحوا أن يغدو إلى مصلاهم. رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمیر ابن انس سے ۱∞؎وہ اپنے چچاؤں سے راوی جو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ ہیں کہ ایک قافلہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں آیا انہوں نےگواہی دی کہ انہوں نےکل چاند د یکھ لیا ہے حضور نے حکم دیا کہ روزہ افطارکرلیں اورکل صبح عیدگاہ چلیں۲؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبد الله ہے،انس ابن مالک کے بیٹے ہیں،انصاری ہیں،بہت کم عمر تابعی ہیں،اپنے والدحضرت انس رضی الله عنہ کے بعد بہت عرصہ زندہ رہے۔۲؎طحاوی،دارقطنی اور ابن ماجہ نے فرمایا کہ یہ گواہی بعد زوال ہوئی تھی اور انتیسویں۲۹ رمضان کو گردو غبار تھا،یہ حدیث امام اعظم کی بہت بڑی دلیل ہے۔نمازعید کا وقت زوال سے پہلے تک ہے نہ کہ شام تک کیونکہ اگر مغرب تک وقت ہوتا توحضورصلی الله علیہ وسلم آج ہی نماز پڑھادیتے۔خیال رہے کہ عیدالفطر کی نماز ایسے عذر میں دوسرے روز ہوسکتی ہے مگر تیسرے دن نہیں ہوسکتی،لیکن نماز بقرعیدتین روز تک پڑھی جاسکتی ہے دسویں،گیارھویں،بارھویں۔(کتب فقہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1450