Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1435

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ الْبَرَاءِ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: “إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهٖ فِي يَوْمِنَا هٰذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ فَإِنَّمَا هُوَ شَاةُ لَحْمٍ عَجَّلَهٗ لِأَهْلِهٖ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن البراء قال: خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر فقال: “إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن ذبح قبل أن نصلي فإنما هو شاة لحم عجله لأهله ليس من النسك في شيء» (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بقرعید کے دن ہمیں خطبہ سنایا تو فرمایا کہ آج اس دن میں جس چیز سے ہم شروع کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں پھر لوٹیں تو قربانی کریں ۱∞؎جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا،اور جس نے ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا وہ گوشت کی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے ذبح کرلیا وہ قربانی نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بقرعید کے دن مقصودی عبادتیں دو ہیں:نماز اور قربانی،جن میں نماز پہلے ہے اور قربانی بعد میں،لہذا حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس دن غسل بھی نہ کرے۔۲؎علماءفرماتے ہیں کہ شہر جہاں نماز بقرعید ہوتی ہو وہاں نماز سے پہلے قربانی جائزنہیں،گاؤں جہاں نماز بقرعید نہیں ہوسکتی وہاں پو پھٹتے ہی قربانی جائز ہے اور قربانی کرنے والے کا نمازعید پڑھنا ضروری نہیں بلکہ شہرمیں کسی جگہ نماز ہوجانا کافی ہے اسی لیے سرکار نےنُصَلِّیْفرمایایُصَلِّیْغائب کے صیغہ سے نہ فرمایا،لہذا اگرکہیں اول وقت نما زعید ہوگئی اس کے بعد ہم نے قربانی کی پھرعید پڑھنے عیدگاہ گئے توجائز ہے،یہ تمام مسائل اس حدیث سے لیے گئے،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہےکہ نماز سے پہلے قربانی ہوتی ہی نہیں،امام شافعی کے وہاں ہوجاتی ہےمگربہتر نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1435