Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1449

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أبي الْحُوَيْرِث أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَهُوَ بِنَجْرَانَ عَجِّلِ الْأَضْحٰى وَأَخِّرِ الْفِطْرَ وَذَكِّرِ النَّاسَ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

وعن أبي الحويرث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى عمرو بن حزم وهو بنجران عجل الأضحى وأخر الفطر وذكر الناس. رواه الشافعي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوحویرث سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عمرو ابن حزم کو لکھا ۱∞؎جب کہ وہ نجران میں تھے کہ بقرعید جلدی پڑھو اورعیدا لفطر دیر سے اور لوگوں کو وعظ کرو ۲؎(شافعی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ابوالحویرث کو بعض نے صحابی ماناہے اوربعض نے تابعی۔صحیح یہ ہے کہ آپ تابعی ہیں،عمرو ابن حزم صحابی ہیں،انصاری ہیں، غزوہ خندق وغیرہ میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے،حضورصلی الله علیہ وسلم نے انہیں یمن کے مشہور شہر نجران کا حاکم بناکربھیجا جب کہ آپ کی عمر صرف ۱۷ سال تھی۔۲؎وجہ ظاہرہے کہ عید کے دن فطرہ نماز سے پہلے دیاجاتاہے اور بقرعید کے دن قربانی نماز کے بعدہوتی ہے،نیز عید میں کھانا نماز سے پہلےکھایا جاتاہے اور بقرعید میں نماز کے بعد اس لیے نمازعید کچھ دیر سے پڑھنا بہتر ہے اور بقرعید جلدی۔خیال رہے کہ نماز عیدین کا وقت آفتاب چمکنے سے بیس منٹ بعد شروع ہوتا ہے،اور نصف النہار تک رہتا ہے۔۳؎خیال رہے کہ اس حدیث کی اسناد میں ابراہیم ابن محمدہیں جومحدثین کے نزدیک قوی نہیں،ابن حجر نے فرمایا کہ حدیث ضعیف ہے۔لیکن فضائل ومستحبات میں ضعیف حدیث قبول اورقابل عمل ہوتی ہےکیونکہ یہاں وقت مستحبہ کا ذکر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1449