Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1431

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ وَذَوَاتَ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الِمُسْلِمينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَتَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلَّاهُنَّ قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: “لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أم عطية رضي الله عنها قالت: أمرنا أن نخرج الحيض يوم العيدين وذوات الخدور فيشهدن جماعة المسلمين ودعوتهم وتعتزل الحيض عن مصلاهن قالت امرأة: يا رسول الله إحدانا ليس لها جلباب؟ قال: “لتلبسها صاحبتها من جلبابها”(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام عطیہ سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ ہم کو حکم دیا گیا تھا کہ ہم عیدوں میں حائضہ اور پردے والی عورتوں کو(عیدگاہ)لےجائیں۲؎تاکہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور دعاؤں میں حاضرہوں۳؎حیض والیاں عیدگاہ سے الگ رہیں۴؎ایک عورت نےعرض کیا یارسول الله ہم میں سےبعض کےپاس چادرنہیں ہے فرمایا اس کی سہیلی اسے اپنی چادر میں سے اوڑھالے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام نسیبہ بنت کعب یا بنت حارث ہے،کنیت ام عطیہ انصاریہ ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بہت غزوات میں رہیں،زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔۲؎یعنی تمام عورتوں کو عیدگاہ لاؤ جونماز کے قابل ہیں وہ نمازعید پڑھ لیں اور جونماز کے قابل نہ ہوں وہ دعا میں شریک ہوں۔علماءفرماتے ہیں کہ عہدِ فاروقی سے عورتوں کومسجدوں وعیدگاہوں وغیرہ سے روک دیا گیا،حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ اگرحضورصلی الله علیہ وسلم عورتوں کےموجودہ حالات ملاحظہ فرمادیتے تو آپ بھی منع فرمادیتے جب اس وقت یہ حال تھا تو اس زمانہ کا کیا پوچھنا۔مگر خیال رہے کہ اب رفتار زمانہ کو دیکھتے ہوئے عورتوں کو باپردہ ان مجالس میں آنے کی اجازت دو کیونکہ جب عورتیں کالجوں،بازاروں،سینماؤں سےنہیں رک سکتیں تو یہاں سے روک دینا ان کے لیے تباہی کے اسباب جمع کردینا ہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہورہا ہے کہ عیدگاہ اور اچھی مجلسوں میں سمجھ داربچوں کوبھی لے جاناچاہیئے۔(ازمرقاۃ)۳؎یعنی اگر نماز نہ پڑھیں گی تو مسلمانوں کی دعاؤں سے تو فائدہ ا ٹھائیں گی،اپنےمتعلق حضورصلی الله علیہ وسلم کے وعظ سے شرعی احکام معلوم کریں گی،عید کی رونق بڑھائیں گی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ذکر کی مجلسوں،صالحین کی صحبتوں میں حاضری دینا اور ان سے برکت حاصل کرنا سنت سے ثابت ہے۔۴؎یعنی نمازی عورتوں کی صفوں سے کچھ ہٹ کربیٹھیں کیونکہ اس زمانہ میں باقاعدہ عیدگاہ نہ بنی تھیں اور اب بھی عیدگاہوں پرمسجدوں کے سارے احکام جاری نہیں وہ جنگل کے حکم میں ہیں جیساکہ کتب فقہ میں مذکور ہے۔۵؎یعنی اگر اس کےپاس دوچادریں ہوں تو ایک چادرتھوڑی دیر کے لیے عاریۃً اس غریب سہیلی کو دے دے اور اگر ایک بڑی چادر ہوتو کچھ حصہ سے اسے ڈھانپ لے۔بہرحال اسے عیدگاہ پہنچانے کی کوشش کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1431