Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1443

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مُوسٰى وَحُذَيْفَةَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الْأَضْحٰى وَالْفِطْرِ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسٰى: كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا تَكْبِيرَهُٗعَلَی الْجَنَازَۃِ. فَقَالَ حُذَيْفَةُ: صَدَقَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن سعيد بن العاص قال: سألت أبا موسى وحذيفة: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في الأضحى والفطر؟ فقال أبو موسى: كان يكبر أربعا تكبيرهعلی الجنازۃ. فقال حذيفة: صدق. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت سعید ابن العاص سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت ابوموسیٰ رضی الله عنہ اور حذیفہ رضی الله عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نمازعیدوبقر عیدمیں تکبیریں کیسے کہتے تھے تو ابوموسیٰ نے فرمایا کہ آپ نمازجنازہ کی طرح چارتکبیریں کہتے تھے۲؎حضرت حذیفہ نے کہا یہ سچے ہیں۔(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اموی ہیں،قرشی ہیں، الله نے آپ کو اعلیٰ درجے کی سخاوت وفصاحت بخشی،عثمان غنی کے لیے مصحف قرآنی جمع کرنے والے آپ بھی تھے،آپ کا لب ولہجہ حضور صلی الله علیہ وسلم سے بہت مشابہ تھا،جنگ بدر سے پہلے پیدا ہوئے،تابعی ہیں۔۲؎اس طرح کہ رکعت اول میں ایک تکبیرتحریمہ اورتین تکبیرعید اور دوسری رکعت میں تین تکبیرعید اور ایک تکبیر رکوع، یہی امام اعظم کا مذہب ہے۔ابن ہمام نے فرمایا کہ اس موقعہ پر ابوموسیٰ اشعری بولے کہ میں بصرےٰ میں یوں ہی تکبیریں کہاکرتا ہوں۔خیال رہے کہ یہ حدیث درحقیقت دوحدیثوں کا مجموعہ ہےکیونکہ حضرت حذیفہ کا تصدیق کرنا مستقل حدیث ہے، نیزحضرت ابن مسعود ہمیشہ چارتکبیریں کہتے تھے،آپ کا یہی مذہب ہے۔خیال رہے کہ تکبیرات عید میں مختلف روایتیں ہیں اسی لیے اس میں اماموں کے مذہب مختلف ہیں۔چنانچہ امام مالک،احمد کے ہاں اول رکعت میں چھ دوسری میں چار،امام شافعی کے ہاں اول میں سات دوسری میں پانچ،ہمارے ہاں دونوں میں تین تین،ہمارے امام سیدنا ابن مسعود ہیں اور امام شافعی کے مقتداءعبد الله ابن عباس،امام اعظم فرماتے ہیں کہ تکبیر اور رفع یدین خلاف متہود ہے اس لیے ہم نے کم کی روایت پرعمل کیا۔(اشعۃ اللمعات وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1443