Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1432

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَفِي رِوَايَةٍ: تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهٖ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهٖ فَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَفِي رِوَايَةٍ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيْدًا وَهٰذَا عِيْدُنَا "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: إن أبا بكر دخل عليها وعندها جاريتان في أيام منى تدففان وتضربان وفي رواية: تغنيان بما تقاولت الأنصار يوم بعاث والنبي صلى الله عليه وسلم متغش بثوبه فانتهرهما أبو بكر فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه فقال: " دعهما يا أبا بكر فإنها أيام عيد وفي رواية: يا أبا بكر إن لكل قوم عيدا وهذا عيدنا "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر ان کے پاس منٰی کے زمانہ میں آئے جب کہ ان کے پاس دوبچیاں ۱∞؎دف بجارہی تھیں اورایک روایت میں ہے کہ وہ گیت گارہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے بنائے تھے۲؎اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے تھے حضرت صدیق نے ان بچیوں کو جھڑکا تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنا چہرہ انورکھولا فرمایا اے ابوبکر انہیں چھوڑدو کیونکہ یہ دن عید کے دن ہیں۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ اے ابوبکر ہرقوم کی عیدہوتی ہے یہ ہماری عیدہے۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دونوں بچیاں انصارکی تھیں ایک حضرت حسان ابن ثابت کی بیٹی تھی اور دوسری کسی اور کی،مگر دونوں نہ تو بالغہ تھیں اور نہ قریب بلوغ(مراہقہ)بلکہ بہت چھوٹی بچیاں تھیں،حضر ت شیخ نے فرمایا کہتَضْرِبَانِکے معنی ناچ رہی تھیں،ضِرَابْسےمشتق ہےجیسے اب بھی بچیاں خوشی سے گایاناچاکرتی ہیں،بعض نے کہا تالیاں بجارہی تھیں۔۲؎یعنی گندے یا عشقیہ گیت نہ تھے بلکہ شجاعت اوربہادری کے گیت تھے۔بعاث مدینہ منورہ کے قریب بنی قریظہ کے علاقہ میں ایک جگہ تھی جہاں انصار کے دوقبیلوں اوس اورخزرج میں بڑی خون ریزجنگ ہوئی تھی جس کی عداوت ایک سو بیس سال تک رہی تھی،پھرحضور انورصلی الله علیہ وسلم نے ان دونوں قبیلوں کو ملا کر شیروشکرکردیا،اسی کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے"اِذْ کُنۡتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمْاب وہ گیت غازیوں کو دلیر کرنے کے لیے گائے جاتے تھے۔خیال رہے کہ گانے والی بچیاں تھیں،گیت بھی فحش نہ تھے،آج کل کے فحش گانے قطعًا حرام ہیں خصوصًا جوان لڑکیوں کے لیے۔۳؎حضرت ابوبکرصدیق یہ سمجھے کہ یہ گیت بھی ناجائز ہیں،عائشہ صدیقہ کو مسئلہ نہیں معلوم اورحضور انورصلی الله علیہ وسلم سورہے ہیں اس لیے انہیں جھڑکا،حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے بتادیا کہ یہ گیت ہماری اجازت سے گائے جارہے ہیں ناجائز نہیں،اس میں خوشی کا اظہار ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ عید،شادی،عقیقہ،ختنہ،وغیرہ خوشی کے موقعوں پر بچیوں کے ایسے گیت گاناجائز ہیں،مگر آج کل کے غنا(گیت)مقدمۂ زنا ہیں۔۴؎یعنی ہرقوم اپنی عیدوں میں اظہار خوشی کرتی ہے تو ہم کیوں نہ کریں۔علماء فرماتے ہیں کہ کفار کی عیدوں کا احترام کرنا،اس دن کپڑے بدلنا،خوشی کرناکفر ہے،اپنی عیدوں پرجائزخوشیاں منانا سنت۔پنجاب میں نمازعید کے بعدعورتیں عیدگاہ پہنچ کرکھیل کودکرتی ہیں یہ ناجائز ہے،نیز دف اور تاشہ،اعلان نکاح یاعیدکی خوشی کے لیے بجانا جائز ہےمگر جھانج مطلقًا ناجائز۔اس کی پوری بحثاِنْ شَاءَاللّٰهُ"کتاب الادب"میں آئے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1432