Main Icon

باب : عیدین کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1451

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ ابْن عَبَّاسٍ وَجَابِر ابْن عَبْدِ اللهِ قَالَا: لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحٰى ثُمَّ سَأَلْتُهٗ يَعْنِي عَطَاءً بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذٰلِكَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بعد مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَاءَ وَلَا شَيْءَ لَا نِدَاءَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن ابن جريج قال: أخبرني عطاء عن ابن عباس وجابر ابن عبد الله قالا: لم يكن يؤذن يوم الفطر ولا يوم الأضحى ثم سألته يعني عطاء بعد حين عن ذلك فأخبرني قال: أخبرني جابر بن عبد الله أن لا أذان للصلاة يوم الفطر حين يخرج الإمام ولا بعد ما يخرج ولا إقامة ولا نداء ولا شيء لا نداء يومئذ ولا إقامة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن جریج سے ۱∞؎فرماتے ہیں مجھے عطاء نے حضرت ابن عباس اور جابر ابن عبد الله سے خبردی ان دونوں نے فرمایا کہ عید بقر کے دن اذان نہ کہی جاتی تھی پھر کچھ عرصہ بعد میں نےعطاءسے اس بار ے میں پوچھا۲؎تو انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے جابر ابن عبد الله نے خبردی کہ عید کے دن امام کے نکلتے وقت اور نکلنے کے بعد نہ تونماز کی اذان ہے نہ تکبیر،نہ عام اعلان نہ کچھ اور چیزیعنی اس دن نداءہےنہ تکبیر ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبدالملک ابن عبدالعزیز ابن جریج ہے،فقیہ ہیں،مکی ہیں،قرشی ہیں،اسلام میں پہلےمصنف ہیں،۱۵۰ھ میں مکہ معظمہ میں وفات پائی،آپ خود بھی تابعی ہیں اور آپ کے والدبھی۔۲؎یعنی اس مسئلہ کی تفصیل پوچھی کیونکہ اجمالًا علم تو پہلے ہوچکا تھا۔۳؎حق یہ ہے کہ ان دونوں جگہ نداء سے مراد اذان ہی ہے اور یہ جملہ گزشتہ کی تفسیر ہے کیونکہ نماز عید کے لیے اعلان گولہ داغنا،توپ چلانا،نوبت پیٹنا بالاتفاق جائزہے،صرف اذان وتکبیرمنع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1451