Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2540

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهٖ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَلِحِلِّهٖ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلٰى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن عائشة قالت: كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم لإحرامه قبل أن يحرم ولحله قبل أن يطوف بالبيت بطيب فيه مسك كأني أنظر إلى وبيص الطيب في مفارق رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو محرم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے خوشبو تیار کررہی تھی آپ کے احرام کے لیے احرام باندھنے سے پہلے ۱؎اور آپ کے کھولنے کے لیے طواف بیت اللّٰه سے پہلے ایسی خوشبو جس میں مشک ہوتا تھا ۲؎گویا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک بحالت احرام دیکھ رہی ہوں ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم حج یا عمرہ کے احرام کا ارادہ فرماتے تو میں خوشبو تیار رکھتی،آپ غسل فرما کر بغیر سلے کپڑے پہن کرخوشبو ملتے،پھر نفل پڑھ کر تلبیہ کہتے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ حجۃ الوداع میں بھی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ تھیں اور اس سے پہلے عمروں میں بھی تب ہی ماضی اسمتراری فرمارہی ہیں۔
۲
؎بقرعید کے دن حاجی جمرہ عقبہ کی رمی کرکے کچھ حلال ہوجاتا ہے،پھر طواف زیارت کرکے پورا حلال ہوجاتا ہے کہ اسے اپنی عورت سے صحبت بھی جائز ہوجاتی ہے،فرماتی ہیں کہ میں ناقص حل پر ہی خوشبو حضور کو لگادیتی تھی،اس کے بعد آپ زیارت کرتے تھے۔
۳
؎یعنی احرام باندھتے وقت جو خوشبو حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم استعمال کرتے تھے وہ بعینہ آپ کی مانگ شریف میں بعد احرام بھی باقی رہتی تھی گویا میں تصور میں اب بھی اسے دیکھ رہی ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بحالت احرام خوشبو لگانا حرام ہے مگر احرام سے پہلے کی خوشبو کا بقا جائز ہے خواہ خوشبو کا جرم باقی رہے یا اثر،یہ ہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا مذہب ہے اور یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔امام مالک و شافعی کے ہاں پہلی خوشبو کا بقا بھی حرام ہے بلکہ اس میں بھی فدیہ واجب ہے یہ حدیث ان کے صراحۃً خلاف ہے،حضرت عبداللّٰه ابن عمر نے جو اس کے خلاف فرمایا تھا انہیں حضرت عائشہ کی یہ حدیث نہ پہنچی تھی،یہ حدیث سن کر انہوں نے اپنا فتویٰ واپس لے لیا تھا۔(مرقات) لہذا امام شافعی رضی اللّٰہ عنہ کا اس حدیث سے استدلال درست نہیں،مذہب حنفی بہت قوی ہے۔
۴
؎امام مالک کی دلیل وہ حدیث ہے جو بخاری،مسلم شریف میں ہے کہ ایک شخص خوشبو میں لتھڑا ہوا احرام باندھے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور انور نے اس سے فرمایا کہ خوشبو دھو ڈال،اپنا جبہ اتار دے،پھر عمرہ کے ارکان ادا کر،وہ فرماتے ہیں کہ احرام میں خوشبو لگی رہنا،حضور انور کی خصوصیات سے ہے،ورنہ اس شخص کو خوشبو دھونے کا حکم کیوں دیتے مگر یہ استدلال کمزور ہے کیونکہ اس شخص نے بعد احرام خوشبو لگائی تھی۔(ابن ہمام و مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2540