Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2544

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أنس قال: كنت رديف أبي طلحة وإنهم ليصرخون بهما جميعا الحج والعمرة. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت انس سے فرماتے ہیں میں حضرت ابو طلحہ کا ردیف تھا ۱؎تمام صحابہ حج و عمرہ دونوں کا شور مچاتے تھے۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوطلحہ جناب انس کے سوتیلے والد ہیں،ایک گھوڑے یا اونٹ پر دوشخص سوار ہوں تو پیچھے والے کو ردیف کہا جاتا ہے یعنی میں اپنے والد کے پیچھے ایک ہی اونٹ پر سوار تھا۔
۲
؎یعنی خود حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے صحابہ تلبیہ میں حج و عمرہ دونوں میں تلبیہ کا نام پکارتے تھے"لبیك اللھم لبیك بالحج والعمرۃ"۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اور عام صحابہ کرام نے حجۃ الوداع میں قران کیا اور قران افرادو تمتع دونوں سے افضل ہے۔دوسرے یہ کہ قارن تلبیہ میں بار بار حج و عمرہ کا نام لے یہ ہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں افراد قران سے افضل ہے اور صرف پہلے تلبیہ میں حج و عمرہ کا ذکر کرے پھر نہیں،یہ حدیث ان کے مخالف ہے امام اعظم کی مؤید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2544