Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2551

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهٖ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: «لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ».(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَلَفْظُهٗ لِمُسْلِمٍ

وعن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركع بذي الحليفة ركعتين ثم إذا استوت به الناقة قائمة عند مسجد ذي الحليفة أهل بهؤلاء الكلمات ويقول: «لبيك اللهم لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل».(متفق عليه) ولفظه لمسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم ذوالحلیفہ میں دورکعت نفل پڑھتے تھے ۱؎پھر جب مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوجاتی تو ان کلمات سے تلبیہ کہتے کہ فرماتے ۲؎حاضر ہوں میں یا اللّٰه حاضر ہوں حاضر ہوں خدمت میں حاضر ہوں اور ساری بھلائی تیرے قبضہ میں ہے ۳؎حاضر ہوں رغبت و اعمال تیرے لیے ہیں ۴؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎احرام کے لیے دو نفل جس کے اول رکعت میں سورۂ کافرون،دوسری میں قل ھو اللّٰہ ۔غالبًا غسل و تبدیلی لباس گھر پر ہی کرلیتے تھے، ظاہر یہ ہی ہے۔
۲
؎پہلی بار تو نفل پڑھتے ہی کہتے تھے،پھر اونٹنی پر سوار ہوکر جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔غالبًا حضرت ابن عمر نے یہ ہی تلبیہ سنا اس لیے اس طرح روایت کی لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نفل کے بعد ہی تلبیہ کہتے تھے۔
۳
؎اگرچہ تمام خیروشر اللّٰه تعالٰی ہی کے قبضہ میں ہے،اس کے ارادہ سے ہے مگر ادب یہ ہے کہ بندہ خیر کو رب کی طرف اور شر کو اپنی طرف نسبت کرے۔
۴
؎یعنی ہر حال میں تیری طرف راغب اور تجھ سے راضی ہوں اور میری نیکیاں تیرے قبضہ میں ہی ہیں،قبول فرمائے یا نہ فرمائے تو مالک ہے۔
۵
؎نسائی شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نماز ظہر یعنی قصر پڑھی پھر ناقہ پر سوار ہوئے اور تلبیہ کہا،اس بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ فرض نماز کے بعد احرام باندھے مگر جمہور علماء کا فرمان ہے کہ احرام کے لیے مستقل نفل پڑھے یہ ہی بہتر ہے،بعض علماء نے فرمایا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی یہ رکعتیں نماز فجر تھی مگر حق یہ ہی ہے کہ نفل نماز تھی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2551