Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2553

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ الْحَجَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فَاجْتَمَعُوا فَلَمَّا أَتَى الْبَيْدَاءَ أَحْرَمَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أراد الحج أذن في الناس فاجتمعوا فلما أتى البيداء أحرم. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب حج کا ارادہ فرمایا تو لوگوں میں اعلان فرمایا ۱؎پھر لوگ جمع ہوگئے پھر جب میدان میں پہنچے تو احرام باندھا ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سارے عرب میں اپنے حج کا اعلان فرمایا کہ ہم فلاں تاریخ کو مدینہ منورہ سے روانہ ہورہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حج وہ عبادت ہے جس کا اعلان کرنا افضل ہے تاکہ دوسروں کو بھی شوق ہو اور لوگ آکر اس سے دعا وغیرہ کرالیں،حرمین شریفین کو تحفے صدقے،دانہ اس کی معرفت بھیج دیں آج کل جو رواج ہے کہ حاجی کو جلوس کی شکل میں اسٹیشن پہنچانے جاتے ہیں،گلے میں ہار پھول ڈالتے ہیں ان تمام کاموں کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ یہ سب اعلان کی صورتیں ہیں۔
۲
؎یوں تو بیداء ہر میدان کو کہتے ہیں مگر یہاں ذوالحلیفہ کا خاص میدان ہے۔احرام کے معنی ہیں حضور علیہ السلام نے یہاں اپنے احرام کا اظہار فر مایا ورنہ اصل احرام تو مسجد ذوالحلیفہ میں بندھ چکا تھا جیسا کہ پچھلی روایتوں میں گزر چکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2553