Main Icon

باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2550

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُلَبِّي إِلَّا لَبَّى مَنْ عَنْ يَمِينِهٖ وَشِمَالِهٖ : مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ حَتّٰى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هٰهُنَا وهٰهُنَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من مسلم يلبي إلا لبى من عن يمينه وشماله : من حجر أو شجر أو مدر حتى تنقطع الأرض من ههنا وههنا ". رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو تلبیہ کہے مگر انتہا زمین تک ادھر ادھر یعنی دائیں بائیں کے تمام پتھر درخت ڈھیلے تلبیہ کہتے ہیں ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ حاجی کے قریب کے درخت و پتھراور کنکر تلبیہ کہتے ہیں۔ان سے سن کر ان کے قریب کے کنکر پتھر وغیرہ ان سے سن کر ان کے قریب کے یہاں تک کہ ساری دنیا کے کنکر پتھر ڈھیلے تلبیہ کا شور مچاتے ہیں۔یہ تلبیہ بزبان قال کہتے ہیں صر ف زبان حال سے نہیں،اللّٰه نے پتھر لکڑیوں میں احساس بھی دیا ہے،گویائی بھی بخشی ہے جس سے وہ رب تعالٰی کی تسبیح کرتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَاِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ"بلکہ بزرگانِ دین نے ان کی تسبیح وغیرہ سنی بھی ہیں۔(مرقات)مولانا فرماتے ہیں۔شعر
نطق آب و نطق خاک و نطق گل ہست محسوس حواس اہلِ دل
فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ان چیزوں کا تلبیہ سنتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2550