Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3861

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُوْلُ: " وَأَعِدُّوْا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ، أَلَا إِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن عقبة بن عامر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول: " وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو سنا حالانکہ آپ ممبر پر تھے ۲؎کہ فرماتے تھے تیار کرو ان کے مقابل وہ قوت جس کی طاقت رکھو خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے،خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے،خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،جہنی ہیں،امیر معاویہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے جب کہ امیر معاویہ کے بھائی عتبہ ابن ابو سفیان وفات پا گئے پھر امیر معاویہ نے انہیں معزولفرمادیا، ٥٨ ؁ ∞ ہجری میں مصر ہی میں وفات پائی وہاں ہی دفن ہوئے،آپ سے بہت سے صحابہ و تابعین نے روایات لی ہیں۔(مرقات)
۲
؎مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث صرف میں نے ہی نہیں سنی بلکہ میرے ساتھ بہت صحابہ نے سنی ہے کیونکہ آپ نے خطبہ جمعہ یا کسی وعظ میں برسرمنبر علانیہ فرمائی ہے۔
۳
؎یعنی قرآن مجید کی اس آیت میں جس ثبوت کا حکم تاکیدی دیا گیا ہے وہ قوت آج کل تیر اندازی ہے۔آیت کریمہ کا مقصد فی زمانہ اسی طرح حاصل ہوگا کہ مسلمان تیر لگانے نشانہ لگانے کی خوب مشق کریں۔فقیر کی اس شرح سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ اگر صرف تیر اندازی سیکھنا ضروری ہے تو آج کل نہ تیر ہیں نہ اس کی مشق تو اب اس آیت پر عمل کیسے ہو کیونکہ اب بجائے تیر کے گولہ بارود توپوں سے،گولہ باری ہوائی جہازوں سے،بم باری،راکٹ اندازی ہے،اب ان چیزوں کا سیکھنا اس آیت کریمہ پرعمل ہے بشرطیکہ جہاد فی سبیلکی نیت سے ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3861