Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3875

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَينِ فَإِنْ كَانَ يُؤْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَا خَيْرَ فِيْهِ، وَإِنْ كَانَ لَا يُؤْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَا بَأْسَ بِهٖ". رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَفِيْ رِوَايَةِ أَبِيْ دَاوُدَ: قَالَ: "مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ يَعْنِيْ وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ فَلَيْسَ بِقِمَارٍ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يُسْبَقَ فَهُوَ قِمَارٌ".

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أدخل فرسا بين فرسين فإن كان يؤمن أن يسبق فلا خير فيه، وإن كان لا يؤمن أن يسبق فلا بأس به". رواه في "شرح السنة" وفي رواية أبي داود: قال: "من أدخل فرسا بين فرسين يعني وهو لا يأمن أن يسبق فليس بقمار، ومن أدخل فرسا بين فرسين وقد أمن أن يسبق فهو قمار".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے ۱؎تو اگر وہ پیچھے رہ جانے سے مطمئن ہو تو اس میں بھلائی نہیں اور اگر پیچھے رہ جانے سے امن نہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۲؎شرح سنہ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا جو دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کرے مطلب یہ ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے سے امن میں نہ ہو تو وہ جوا نہیں اور جو گھوڑا دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور پیچھے رہ جانے سے امن میں ہو تو وہ جوا ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث کی ایک صورت کی شرح ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ مثلًا زید اورعمر اپنے گھوڑے مقابلہ میں دوڑا رہے ہیں تو بکر نے بھی ان کے درمیان اپنا گھوڑا کھڑا کردیا اور شرط یہ ٹھہری کہ اگر بکر کا گھوڑا نصب العین حد پر پہلے پہنچ گیا پھر زید و عمر کے گھوڑے ایک ساتھ یا آگے پیچھے وہاں پہنچے تو بکر ان دونوں سے سو سو روپیہ لے گا اور اگر زید و عمرکے گھوڑے ایک ساتھ وہاں پہلے پہنچ گئے پھر تیسرا گھوڑا بکر کا پہنچا تو کسی کو کچھ نہ ملے گا اور اگر زید عمر کے گھوڑوں میں سے کسی کا گھوڑا پہلے پہنچ گیا پھر دوسرا گھوڑا بکر کے گھوڑے کے ساتھ یا آگے پیچھے پہنچے تو یہ اگلے گھوڑے والا یہ پوری رقم دو سو روپیہ پر قبضہ کرے گا اور اگر بکر کا گھوڑا اور اس کے ساتھ پہلے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا ایک ساتھ پہلے پہنچے پھر ایک گھوڑا بعد میں پہنچا تو وہ دونوں اگلے گھوڑے والے اس رقم پر قبضہ کرلیں یہ جائز ہے کہ اب جوا نہ رہا۔(مرقات)
۲
؎یعنی اگر اس تیسرے شخص بکر کو یقین ہے کہ میرا گھوڑا ان دونوں سے آگے نکلے گا کہ یہ تیز ہے وہ دونوں سست تو اس مال کا لینا بکر کو بہتر نہیں اور اگر مشکوک معاملہ ہو تو مال اسے حلال ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ گھوڑ دوڑ میں دونوں فریقوں کا مالی شرط لگانا ہار جیت مقرر کرنا جوا اور حرام ہے لیکن جب تیسرا آدمی ان میں اپنا گھوڑا شامل کردے جو مال نہ دے اور اسے اپنے اس گھوڑے کے جیتنے کا یقین بھی نہ ہو شک میں ہو کہ نہ معلوم جیتے یا ہارے تو وہ دونوں فریق مالی ہار جیت طے کرسکتے ہیں اور وہ عمل جوا نہ رہے گا۔اس تیسرے گھوڑے کو شریعت میں محلل کہتے ہیں یعنی اس عمل یا اس مال کو حلال کرنے والا اب جیت و ہار کی چار پانچ صورتیں ہوگئیں جو ابھی عرض کی گئیں ۔
۳
؎یہاںان یسبقمعروف بھی ہوسکتا ہے اور مجہول بھی یعنی اس کے آگے رہنے کا امن و اطمینان ہو یا پیچھے رہ جانے سے امن ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3875