Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3862

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: "سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الرُّوْمُ وَيَكْفِيْكُمُ اللّٰهُ، فَلَا يَعْجِزْ أَحَدُكُمْ أَنْ يَلْهُوَ بِأَسْهُمِهٖ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "ستفتح عليكم الروم ويكفيكم الله، فلا يعجز أحدكم أن يلهو بأسهمه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ عنقریب روم تم پر فتح کیا جائے گا اورتمہیں کفایت کرے گا ۱؎تو تم سے کوئی اس سے عاجز نہ ہوجائے کہ اپنے تیروں سے کھیلے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خلافت فاروقی میں روم جیسی مضبوط سلطنت تمہارے زیر نگین ہوگی اورتعالٰی تم کو رومی عیسائیوں کے شر سے محفوظ کردے گا کیونکہ وہ تمہاری رعایا بن جائیں گے۔اس مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ غیبی خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں پوری ہوئی۔
۲
؎یعنی چونکہ تم نے روم جیتنا ہے اور رومی لوگ نہایت اعلیٰ درجے کے تیر انداز ہیں لہذا ابھی سے تیر اندازی کی مشق کرو اس سے غافل نہ رہو تاکہ اس جنگ کے وقت تمہارا یہ فن کام آوے۔اس تیر اندازی کو لہو فرمانا رغبت کے لیے ہے یعنی یہ فن عبادت بھی ہے اور دل لگی فرحت و سرور،قوت و طاقت حاصل ہونے کا ذریعہ بھی لہذا اس سے غافل نہ رہو،نفس لہو یعنی کھیل کود کی طرف راغب ہے،دل عبادت کا خواہاں،تیر اندازی میں یہ دونوں صفتیں موجود ہیں لہذا یہاں لہو سے مراد غفلت کی چیز نہیں بلکہ مراد رغبت کی چیز ہے،صحابہ کرام نے اس حدیث پر عمل کیا اور جیتنا عہد فاروقی میں۔ کاش آج اسکولوں میں بجائے ہاکی کرکٹ اور فٹ بال کے ایسے کھیل کھلائے جائیں جو کھیل بھی ہوں اور ہنر بھی جیسے گھوڑ دوڑ اور نشانہ بازی۔خیال رہے کہ دنیا میں تین اعظم گزرے ہیں جنہوں نے بڑی فتوحات کیں سکندر اعظم،نپولین اعظم اور فاروق اعظم،سکندر اور ذوالقرنین کی فتوحات غیروں کے پاس چلی گئیں مگر فاروق اعظم کی فتوحات بفضلہ تعالٰی اب تک تمام کی تمام مسلمانوں کے قبضے میں ہیں جیسے روم،شام،ایران،عراق وغیرہتعالٰی دائم قائم رکھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3862