Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3869

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ فِي الْخَيْلِ، وَالشِّكَالُ: أَنْ يَكُوْنَ الْفَرَسُ فِيْ رِجْلِهِ الْيُمْنٰى بَيَاضٌ وَفِيْ يَدِهِ الْيُسْرٰى، أَوْ فِيْ يَدِهِ اليُمْنٰى وَرِجْلِهِ اليُسْرٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره الشكال في الخيل، والشكال: أن يكون الفرس في رجله اليمنى بياض وفي يده اليسرى، أو في يده اليمنى ورجله اليسرى. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم گھوڑے میں شکال کو ناپسند فرماتے تھے ۱؎اور شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے داہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا اس کے داہنے ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو۳؎

شرح حدیث

۱∞؎شکالشین کے کسرہ سے،لغۃً اس رسی کو کہتے ہیں جس سے گھوڑے کے پاؤں باندھے جائیں۔اصطلاح میں شکال کے کئی معنی ہیں: ایک یہ کہ گھوڑے کا ایک پاؤں یا ہاتھ سفید ہو باقی تین سیاہ یا سرخ ہوں۔دوسرے یہ کہ تین ہاتھ پاؤں سفید ہوں باقی ایک سرخ یا سیاہ تیسرے وہ جو خود یہاں مذکور ہیں۔
۲
؎یہ تفسیر یا تو راوی حدیث حضرت ابوہریرہ نے فرمائی ہے یا خودحضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے۔خلاصہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ گھوڑا سیاہ یا سرخ ہو مگر اس کا داہنا ہاتھ بایاں پاؤں یا اس کے برعکس بایاں ہاتھ داہناپاؤں سفید ہوں باقی دوسرے دو سرخ یا سیاہ ہوں اس کی ناپسندیدگی کی وجہ خود ہی حضور جانتے ہیں نور نبوت سے عقل کو اس میں دخل نہیں اور ہوسکتا ہے اس رنگ کے گھوڑے عیب دار ہوتے ہیں۔ جیسی چستی چلاکی تیزی جہاد کے گھوڑے میں چاہیے ویسی اس میں نہ ہوتی ہو۔و الله و رسولہ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3869