Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3888

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُوْسَى بْنِ عُبَيْدَةَ مَوْلٰى مُحَمَّدِ اِبْنِ الْقَاسِمِ قَالَ: بَعَثَنِيْ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِم إِلَى الْبَرَاءِ اِبْنِ عَازِبٍ يَسْأَلُهٗ عَنْ رَايَةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَتْ سَوْدَاءَ مُرَبَّعَةً مِنْ نَمِرَةٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن موسى بن عبيدة مولى محمد ابن القاسم قال: بعثني محمد بن القاسم إلى البراء ابن عازب يسأله عن راية رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كانت سوداء مربعة من نمرة. رواه أحمد والترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت موسیٰ ابن عبیدہ سے جو محمد ابن قاسم کے مولیٰ ہیں ۱؎فرماتے ہیں مجھے محمد ابن قاسم نے براءابن عازب کے پاس بھیجا ۲؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جھنڈے کے متعلق دریافت کرنے کے لیے تو فرمایا وہ سیاہ رنگ کا چوکھٹا تھا اون کا ۳؎(احمد ،ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ زہدی ہیں،تابعین میں سےہیں،بہت سے محدثین نے آپ کو ضعیف فرمایا ہے،بعض نے آپ کی توثیق کی ہے اور محمد بن قاسم بھی تابعی ہیں،آپ کا لقب خلاءعنبری ہے،کنیت ابوالغیار،جعفر منصور کے آزاد کردہ غلام ہیں،رہواز میں پیدا ہوئے،بصرے میں قیام رہا۔
۲
؎کہ حضور کا جھنڈا کس قسم اور کس رنگ کا ہوتا تھا ان حضرات کا یہ عشق رسول تھا کہ حضور کے ہر حال ہر ادا کی تحقیق کرکے ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
۳
؎نمرہعربی میں چیتے کو کہتے ہیں کیونکہ اکثر وہ رنگ برنگا ہوتا ہے اس لیے اب رنگ برنگے اونی کپڑے کو بھی کہنے لگے نمرہ اونی چادر جو اکثر بدوی لوگ پہنتے ہیں،لہذا یہاں سیاہ سے مراد سیاہ دھاری والا ہے جس میں سفید دھاریاں بھی ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3888