Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3883

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فركِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيْرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هٰذِهٖ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا يَفْعَلُ ذٰلِكَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن علي قال: أهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة فركبها، فقال علي: لو حملنا الحمير على الخيل فكانت لنا مثل هذه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے ایک خچر ہدیۃً پیش کیاگیا تو حضور اس پر سوار ہوئے ۱؎تو حضرت علی نے عرض کیا ہم بھی گدھے کو گھوڑی پر چڑھایا کرتے تو ہمارے پاس بھی اس جیسے جانور ہوجاتے ۲؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ۳؎(ابوداؤد،نسائی )

شرح حدیث

۱∞؎اس خچر کا نام دلدل تھا جو شاہ اسکندریہ مقوقس نے حضور انور کی خدمت میں ہدیۃًبھیجا تھا اور حضور نے اس پر سواری فرمائی۔(اشعہ)
۲
؎کیونکہ خچرمضبوط جانور ہے اس سے بہت دشوار کام بھی بہ آسانی ہوجاتے ہیں اور یارسولیہ آپ کو مرغوب بھی ہے کہ حضور نے اس پر سواری فرمائی ہے۔
۳
؎یعنی جو لوگ احکام شرعی سے ناواقف ہیں وہ یہ کام کرتے ہیں۔خیال رہے کہ خچر بنانا معززین کو جائز نہیں مگر خچر پر سواری کرنا اس سے کام لینا بلاکراہۃً جائز ہے جیسے جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں مگر بنی ہوئی تصویر کا فرش یا بستر میں استعمال بالکل جائز ہے،رب تعالٰی نے خچر کا ذکر اپنے انعامات کے سلسلہ میں کیا کہ فرمایا:"وَالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡهَا وَزِیۡنَۃً"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3883