Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3864

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُوْنَ بِالسُّوْقِ فَقَالَ: "اُرْمُوْا بَنِيْ إِسْمَاعِيْلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، وَأَنَا مَعَ بَنِيْ فُلَانٍ"لِأَحَدِ الْفَرِيْقَيْنِ فَأَمْسَكُوْا بِأَيْدِيْهِمْ فَقَالَ: "مَا لَكُمْ؟ " قَالُوْا : وَكَيْفَ نَرْمِيْ وَأَنْتَ مَعَ بَنِيْ فُلَانٍ؟ قَالَ: "اُرْمُوْا وَأَنَا مَعكُمْ كُلِّكُمْ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن سلمة بن الأكوع قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على قوم من أسلم يتناضلون بالسوق فقال: "ارموا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا، وأنا مع بني فلان"لأحد الفريقين فأمسكوا بأيديهم فقال: "ما لكم؟ " قالوا : وكيف نرمي وأنت مع بني فلان؟ قال: "ارموا وأنا معكم كلكم". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکو ع سے ۱؎فرماتے ہیں کہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ اسلم کی ایک قوم پر تشریف لائے جو بازار میں تیر اندازی کررہی تھی۲؎تو فرمایا اے بنی اسماعیل تیر چلاؤ کیونکہ تمہارے والد تیر انداز تھے اور میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں(دو فریق میں سے ایک کے لیے)تو انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے۴؎فرمایا تمہیں کیا ہوا وہ بولے ہم کیسے تیر اندازی کریں آپ فلاں قبیلہ والوں کے ساتھ ہوگئے ۵؎فرمایا تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ سلمی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،بہت ہی بڑے بہادر اور پیادہ لڑنے والوں کے امام تھے،تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے،آپ ہی سے بھیڑیئے نے کلام کیا تھا،اسی برس عمر پائی ۴۷ھ؁ ∞ میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
۲
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاںسوقسے مراد ایک خاص جگہ ہے جو مدینہ منورہ میں تھی،بعض نے فرمایا کہسوق ساقکی جمع ہے بمعنی پیادہ یعنی وہ لوگ پیدل تیر اندازی کرتے تھے ظاہر بھی یہ ہی ہے کیونکہ بازار میں تیر اندازی مشکل ہے وہاں لوگوں کا مجمع ہوتا ہے۔
۳
؎یعنی اسماعیل علیہ السلام تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے تم ان کی اولاد ہو تم بھی اس میں کمال پیدا کرو تمہارے باپ کی میراث ہے۔
۴
؎یعنی یہ فرمان عالی سن کر دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کردی۔
۵
؎یعنی حضور آپ تو ان دوسروں کے ساتھ ہوگئے ہم بے سہارا رہ گئے پھر ہم کس کے بل بوتے پر تیر اندازی کریں یہ عرض معروض اس دوسرے فریق نے کی۔
۵
؎یعنی ہم تمہارے دونوں فریقوں کے معاون اور مددگار ہیں یہ معیت سے مراد لی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3864