Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3886

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ قَدْ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن السائب بن يزيد: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان عليه يوم أحد درعان قد ظاهر بينهما. رواه أبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر احد کے دن دو زرہیں تھیں کہ جن کے درمیان اجتماع فرمایا تھا ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ بہت کم عمر صحابہ میں سے ہیں،چنانچہ آپ کی پیدائش ۲ھ؁ ∞ میں ہے،آپ کی کنیت ابو یزید ہے،کندی ہیں،اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوئے،اس وقت آپ کی عمر صرف سات سال تھی، ۸۰ھ؁ ∞ میں وفات پائی آپ کے والد یزید ابن سعید ہیں۔
۲
؎ظاھربنا ہےمظاھرۃسےوتظاھرسے جس کے معنی ہیں تعاون یعنی ایک دوسرے سے مدد لینا،چونکہ غازی زرہ سے جہاد ہی میں مدد لیتا ہے اس لیے زرہ کے استعمال کوتظاھریامظاھرکہہ دیتے ہیں یہاں جمع کرنا مراد ہے یعنی حضور انور نے احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنی تھیں کہ اوپر والی کو ظہار(ابرہ)بنایا تھا نیچے والی کو بطانہ(استر)اس میں حضور انور کی کمال شجاعت کا ذکر ہے کیونکہ زرہ بہت بھاری ہوتی ہے دو زرہ پہن کر چلنا پھرنا جہاد کرنا آسان نہیں ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کا استعمال توکل کے خلاف نہیں،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سیدا لمتوکلین ہیں پھربھی ہتھیار زرہ وغیرہ استعمال فرما تے ہیں،زرہ لوہے کا لباس ہے قمیص کی طرح اس سے تلوار وغیرہ اثر نہیں کرتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3886