Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3889

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهٗ أَبْيَضُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن جابر: أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة ولواؤه أبيض. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں تشریف لائے حالانکہ آپ کا جھنڈا سفید تھا ۱؎(ترمذی،ابوداؤ،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس کا ذکر پہلے ہوچکا کہلواءسے مراد یا تو چھوٹا جھنڈا ہے جو ہر قوم کا الگ تھا مہاجرین کے جھنڈے کا رنگ سفید تھا یا بڑا جھنڈا مراد ہے جو لشکر کا نشان تھا۔ظاہر یہ ہے کہ وہ جھنڈے بالکل سادہ تھے ان پر کوئی نشان یا تحریر نہ تھی،بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کلمہ طیبہلاالٰہ الا الله محمد رسول اللهلکھا تھا۔و الله اعلم!اب سلطنتوں کے جھنڈوں پر عموماً تحریر تو نہیں ہوتی مگر کچھ خصوصی نشان ہوتے ہیں اور مخصوص رنگ جیسے ہمارے پاکستان کے جھندے کا رنگ سبز اور سفید ہے نشان چاند تارا مگر تحریر کوئی نہیں اللہ تعالٰی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کے جھنڈے کے صدقہ میں ہماراپاکستان اسلامستان بن جائے اس کا جھنڈا ہمیشہ بلندوبالار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3889