Main Icon

باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3867

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْوِيْ ناصِيَةَ فَرَسٍ بِأُصْبُعِهٖ وَهُوَ يَقُوْلُ: "اَلْخَيْلُ مَعْقُوْدٌ بِنَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ: الأَجْرُ وَالغَنِيْمَةُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جرير بن عبد الله قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوي ناصية فرس بأصبعه وهو يقول: "الخيل معقود بنواصيها الخير إلى يوم القيامة: الأجر والغنيمة". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جریر بن عبداللہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ گھوڑے کی پیشانی کے بال اپنی انگلی سے ہٹا رہے ہیں ۱؎اور فرمارہے ہیں کہ گھوڑے کی پیشانی کے بالوں سے قیامت تک بھلائی وابستہ ہے ۲؎ثواب اور غنیمت ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اپنے دستِ اقدس سے گھوڑے کی خدمت فرمارہے ہیں یا مطلب یہ ہے کہ پیار میں اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے ہیں بالوں کو مروڑے جاتے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں۔معلوم ہوا کہ جہاد کے گھوڑوں کی خدمت اپنے ہاتھ سے کرنا بھی سنت ہے اور اس سے محبت کرنا اس کی پیشانی پر پیار سے ہاتھ پھیرنا بھی سنت ہے کیونکہ یہ آلہ جہاد ہے اور حضور کا پیارا ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں گھوڑے سے مراد جہاد کا گھوڑا ہے نہ کہ عام گھوڑے جو تانگہ میں چلانے،یا ریس میں جوا کھیلنے کے لیے پالے جاتے ہیں۔ بعض شارحین نے فرمایاکہ یہاں جنس گھوڑا مراد ہے کیونکہ یہ آلہ جہاد ہے اس پر جہاد ہوسکتاہے ۔
۳
؎یہ دونوں یا ان میں سے ایک اگر مجاہد جیت آیا تو ثواب کمالایا۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت تک گھوڑے جہاد میں کام آئیں گے دیکھ لو آج اس سائنس کے زمانہ میں گھوڑے خچر بہت کام آتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3867