Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3126

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ،وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَكَيْفَ إِذْنُها؟ قَالَ: "أَنْ تَسْكُتَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تنكح الأيم حتى تستأمر،ولا تنكح البكر حتى تستأذن" قالوا: يا رسول الله وكيف إذنها؟ قال: "أن تسكت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے حتی کہ اس سے اجازت لے لی جائے ۱؎اور کنواری کا نکاح اس کی بلا اجازت نہ کیا جائے ۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسولکنواری کی اجازت کیسی ہے فرمایا اس کی خاموشی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عربی میںاَیِّمْبے خاوند والی عورت کو کہتے ہیں،کنواری ہویا بیوہ یا مطلقہ،مگر یہاں بیوہ یا مطلقہ مراد ہے کیونکہ کنواری کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۲
؎خلاصہ فرمان عالی یہ ہے کہ بالغہ عاقلہ لڑکی کا نکاح اس کے بغیر اجازت نہیں ہوسکتا،خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ،بیوہ یا مطلقہ، عاقلہ بالغہ اپنے نفس کی مختار ہے کوئی ولی اس پر جبر نہیں کرسکتا۔
۳
؎یعنی عاقلہ بالغہ کے نکاح میں اس کی اجازت ضروری ہے مگر نوعیت اجازت میں فرق ہے،کنواری کی خاموشی یا آنسوؤں سے رونا ہی اجازت ہے۔بشرطیکہ ولی یا ولی کا وکیل اجازت لے اور بیوہ یا مطلقہ میں صاف اجازت دینا ضروری ہے،خیال رہے کہ احناف کے ہاں بلوغ و صغر کا اعتبار ہے اور شوافع کے ہاں باکرہ و ثیبہ ہونا معتبر ہے،یعنی بالغہ لڑکی خواہ کنواری ہو خواہ شادی شدہ اس کے نکاح کے لیے اجازت شرط ہے۔نابالغہ بچی کا ولی ہی نکاح کرسکتا ہے اس کی اپنی اجازت شرط نہیں خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔یہ بھی خیال رہے کہ جو لڑکی بیماری یا زیادتی حیض یا زنا کی وجہ سے ثیبہ ہوگئی وہ باکرہ ہی ہے کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3126