Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3137

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُزَوِّجِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلَا تُزَوِّجِ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تزوج المرأة المرأة، ولا تزوج المرأة نفسها، فإن الزانية هي التي تزوج نفسها". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو ایک عورت دوسری عورت کا نکاح کرے ۱؎اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے ۲؎کیونکہ وہ عورت زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرے ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱ ∞؎یعنی مرد ولی کے ہوتے ہوئے عورت لڑکی کی ولیہ نہیں وہ نکاح نہ کرائے لہذا باپ یا دادا یا بھائی یا چچا وغیرہم کے ہو تے ہوئے ماں خالہ وغیرہ ولیہ نہیں،بلکہ وہ لوگ ولی ہیں یا یہ حکم استحبابی ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ عورت لڑکی کا نکاح نہ کرے بلکہ اگر کوئی ولی نہ ہو تو حاکم وقت کی رائے سے نکاح کیا جائے ورنہ مرد ولی کے نہ ہونے پر ماں خالہ وغیرہ ولیہ ہوتی ہیں کہ نابالغہ کا نکاح ان کی اجازت سے درست ہے۔
۲
؎یعنی بغیر گواہ اکیلے میں نکاح نہ کرے یا غیر کفو میں نکاح نہ کرے ورنہ نکاح منعقد نہ ہوگا،اس پر فتویٰ ہے دیکھو درمختار۔یہ مطلب نہیں کہ بالغہ بغیر ولی کے نکاح نہیں کرسکتی،ورنہ وہ خرابیاں لازم ہوں گی جو پہلے عرض کی گئیں۔
۳
؎یعنی جو عورت بغیر گواہ یا اولیاء کے ناراض ہونے پر غیر کفو میں نکاح کرلے وہ نکاح درست نہ ہوگا اور صحبت حلال نہ ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3137