Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3130

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَن أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَليٍّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا نكاح إلا بولي". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی آپ نے فرمایا بغیر ولی نکاح نہیں ۱؎(احمد ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا ء پر امام شافعی فرماتے ہیں عورت کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت شرط ہے عورت بالغہ ہویا نابالغہ ہمارے ہاں نابالغ لڑکے یا لڑکی کے نکاح میں ولی شرط ہے،بالغ کے لیے نہیں یہ حدیث ظاہری معنی میں امام شافعی کے بھی خلاف ہے کیونکہ وہ بالغ لڑکے کا نکاح بغیر ولی جائز مانتے ہیں یہاں لڑکے یا لڑکی کی قید نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں اس حدیث میں نابالغ یا مجنون یا لونڈی غلام مراد ہیں یا یہاں نفی استحباب ہے یعنی بغیر ولی لڑکے لڑکی کا نکاح بہتر نہیں۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں نیز ظاہری معنی سے یہ حدیث قرآن کریم کے بھی خلاف ہوگی کہ رب تعالٰی نے فرمایا:"فَلَا تَعْضُلُوۡھُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوٰجَہُنَّ"عورتیں اپنے خاوندوں سے نکاح کریں تو تم انہیں نہ روکو،اور گزشتہ مسلم کی حدیث کے بھی خلاف ہوگی کہالا یم احق بنفسھا من ولیھا۔(مسلم،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،مالک)لہذا امام اعظم کی توجیہ نہایت ہی قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3130