Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3127

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا" وَفِي رِوَايَةٍ. قَالَ: "الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ،وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا" وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ،وَإِذْنُهَا سُكُوتُهَا" وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: "الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صِمَاتُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "الأيم أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأذن في نفسها وإذنها صماتها" وفي رواية. قال: "الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأمر،وإذنها سكوتها" وفي رواية قال: "الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر تستأمر،وإذنها سكوتها" وفي رواية قال: "الثيب أحق بنفسها من وليها، والبكر يستأذنها أبوها في نفسها، وإذنها صماتها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے خاوند والی عورت اپنے نفس کے مقابل اپنے ولی كے زیادہ حق دار ہے ۱؎اور کنواری سے اس کے نفس کے متعلق اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎ایک اور روایت میں ہے کہ شادی شدہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری سے اجازت لی جائے اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے اور ایک روایت میں فرمایا شادی شدہ اپنے نفس کے بمقابلہ اپنے ولی کے بہت حقدار ہے،اور کنواری سے اس کا باپ اجازت لے گا اس کے نفس کے متعلق اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۳؎(مسلم)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ بے خاوند والی بالغہ لڑکی خواہ کنواری ہو یا بیوہ یا مطلقہ اپنے نفس کی مختار ہے کہ اگر اس کا ولی کسی اور سے اس کا نکاح کردے اور یہ خود کسی دوسرے سے نکاح کرے تو اس کا اپنا کیا ہوا نکاح معتبر ہوگا نہ کہ ولی کا کیا ہوا نکاح۔معلوم ہوا کہ عاقلہ بالغہ کے نکاح کے لیے اجازت ولی شرط نہیں اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے،جیسا کہمن ولیھاسے معلوم ہوا۔
۲
؎یہاں باکرہ کا ذکر علیحد ہ فرمانا اس حکم کو بیان کرنے کے لیے ہے یعنی باکرہ و ثیبہ کے حکم میں صرف یہ ہےکہ باکرہ کی خاموشی اجازت ہے اور ثیبہ کی نہیں اسے صاف الفاظ میں اجازت دینا ہوگی،باقی مختار ہونے میں دونوں برابر ہیں یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے۔۳؎خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث بہت سی روایات سے مروی ہے جن کے الفاظ میں قدرے فرق ہے مگر معنی و منشاء سب کا یکساں ہے وہ یہ کہ عاقلہ بالغہ لڑکی خواہ کنواری ہو خواہ بیوہ،خواہ طلاق والی اپنے نفس کی مختار ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا، اور اس کے نکاح کے لیے ولی شرط نہیں اور باکرہ کی خاموشی اس کی اجازت ہے مگر خاموشی اس وقت اجازت مانی جائے گی جب کہ اذن لینے والا اس کا ولی یا ولی کا وکیل ہو اور دولہا کا نام پتہ وغیرہ بتا کر اجازت مانگی جائے جس سے اسے دولہا کاپورا پتہ لگ جائے اگر ان میں سے کوئی چیز کم رہی تو خاموشی اجازت نہ ہوگی۔
۴
؎نیز یہ حدیث احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی روایت سے مرفوعًا نقل کی البتہ الفاظ میں کچھ فرق ہے(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3127