Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3136

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ جَارِيَةً بِكرًا أَتَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِي كَارِهِةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

عن ابن عباس قال: إن جارية بكرا أتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة، فخيرها النبي صلى الله عليه وسلم . رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے ذکر کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا حالانکہ وہ ناپسند کرتی تھی۲؎اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دے دیا ۳؎(ابوداؤد)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎وہ لڑکی بالغہ تھی،جیسا کہ آئندہ مضمون سے معلوم ہوتا ہے بعض شارحین نے کہا کہ وہ خنساء بنت خذام تھیں جن کا واقعہ پہلے گزر چکا مگر یہ درست نہیں کہ وہ کنواری نہ تھیں۔یہ لڑکی کنواری ہے،بعض نے فرمایا کہ اس لڑکی کا نام والفہ ہے۔والله اعلم۲؎صورت یہ تھی کہ باپ نے اس لڑکی سے پوچھے بغیر نکاح کردیا لڑکی دل سے ناراض تھی بوقت نکاح لڑکی نے انکار نہ کیا تھا،ورنہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا اور لڑکی کو اختیار نہ ملتا لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
۳
؎یعنی وہ نکاح تیری رضا پر موقوف ہے اگر تو چاہے تو جائز رکھ اور چاہے فسخ کردے۔اس سے معلوم ہوا کہ بالغہ لڑکی پر باپ وغیرہ جبر نہیں کرسکتے اگر اس سے بغیر پوچھے نکاح کردیں گے تو نکاح فضولی ہو گا لڑکی جائز رکھے یا نہ،ہمارے ہاں اس اختیار کی وجہ لڑکی کا بلوغ تھا امام شافعی کے ہاں اس کا باکرہ یعنی کنواری ہونا۔
۴
؎یہ حدیث،احمد،نسائی،ابن ماجہ نے بھی نقل کی ابن قطان کہتے ہیں کہ حدیث صحیح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3136