Main Icon

باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3133

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا،فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا". رَوَاهُ التِّرمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَرَوَاهُ الدَّارمِيُّ عَنْ أَبِي مُوسٰى.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "اليتيمة تستأمر في نفسها،فإن صمتت فهو إذنها، وإن أبت فلا جواز عليها". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي. ورواه الدارمي عن أبي موسى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یتیم لڑکی سے اس کی جان کے بارے میں اجازت لی جائے ۱؎پھر اگر وہ خاموش رہے تو وہ ہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کردے تو اس پر جبر نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤدنسائی)

شرح حدیث

۱ ∞؎یہاں یتیمہ سے مراد بالغہ کنواری لڑکی ہے جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاٰتُوا الْیَتٰمٰۤی اَمْوٰلَہُمْ" یہاں بالغوں کو یتیم فرمایا گیا یعنی جو پہلے یتیم تھی۔
۲
؎اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا ہاں کنواری کی خاموشی یا صرف آنسوؤں یا باریک آواز سے رونا اجازت ہے بشرطیکہ اجازت لینے والا ولی یا ولی کا وکیل ہو۔خیال رہے کہ ثیبہ نابالغہ کا نکاح اگر دادا کردے تو نکاح درست بھی ہے اور لازم بھی کہ لڑکی بالغہ ہو کر فسخ نہیں کرسکتی اور اگر دادا کے سوا کوئی اور قریبی ولی کر دے تو نکاح درست تو ہے مگرلازم نہیں لڑکی بالغ ہو کر فسخ کرسکتی ہے،فسخ کے لیے شرط یہ ہے کہ علامت بلوغ دیکھتے ہی فسخ کرے اور حاکم سے فیصلہ کرائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3133