Main Icon

باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5494

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ الصَّيَّادِ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصّبيانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثم قَالَ: "أتَشهدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ:أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَصَّهُ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- ثُمَّ قَالَ: "آمَنْتُ باللَّهِ وَبِرُسُلِهِ"، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صيَّاد: "مَاذَا تَرَى؟ " قَالَ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا"وَخَبَّأَ لَه: {يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ}، فَقَالَ: هُوَ الدُّخُّ. فَقَالَ: "اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ". قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَأْذَنُ لي فِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنْ يَكُنْ هُوَ لَا تُسَلَّطْ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَة، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ. فَقَالَتْ: أَيْ صَافِ -وَهُوَ اسْمُهُ- هَذَا مُحَمَّد. فتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ: "إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عبد الله بن عمر: أن عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في رهط من أصحابه قبل ابن الصياد حتى وجدوه يلعب مع الصبيان في أطم بني مغالة، وقد قارب ابن صياد يومئذ الحلم، فلم يشعر حتى ضرب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- ظهره بيده ثم قال: "أتشهد أني رسول الله؟ " فنظر إليه فقال:أشهد أنك رسول الأميين. ثم قال ابن صياد: أتشهد أني رسول الله؟ فرصه النبي -صلى الله عليه وسلم- ثم قال: "آمنت بالله وبرسله"، ثم قال لابن صياد: "ماذا ترى؟ " قال: يأتيني صادق وكاذب، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "خلط عليك الأمر". قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إني خبأت لك خبيئا"وخبأ له: {يوم تأتي السماء بدخان مبين}، فقال: هو الدخ. فقال: "اخسأ فلن تعدو قدرك". قال عمر: يا رسول الله! أتأذن لي في أن أضرب عنقه؟ قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن يكن هو لا تسلط عليه، وإن لم يكن هو فلا خير لك في قتله قال ابن عمر: انطلق بعد ذلك رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبي بن كعب الأنصاري يؤمان النخل التي فيها ابن صياد، فطفق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يتقي بجذوع النخل وهو يختل أن يسمع من ابن صياد شيئا قبل أن يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها زمزمة، فرأت أم ابن صياد النبي -صلى الله عليه وسلم- وهو يتقي بجذوع النخل. فقالت: أي صاف -وهو اسمه- هذا محمد. فتناهى ابن صياد. قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو تركته بين قال عبد الله بن عمر: قام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في الناس فأثنى على الله بما هو أهله، ثم ذكر الدجال فقال: "إني أنذركموه وما من نبي إلا وقد أنذر قومه، لقد أنذر نوح قومه، ولكني سأقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه: تعلمون أنه أعور وأن الله ليس بأعور". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں ابن صیاد کی طرف چلے حتی کہ ان بزرگوں نے ابن صیاد کو بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں میں کھیلتا ہوا پایا ۱∞؎یا اس دن ابن صیاد قریب بلوغ تھا تو اسے کچھ پتہ نہ لگا حتی کہ رسول الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا۲؎پھر فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں الله کا رسول ہوں۳؎اس نے آپ کی طرف دیکھا بولا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے پڑھوں کے رسول ہیں۴؎پھر ابن صیاد بولا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں الله کا رسول ہوں ۵؎تو اسے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دبوچا ۶؎پھر فرمایا کہ میں الله اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ۷؎پھر ابن صیاد نے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے ۸؎کہ میرے پاس سچے جھوٹے دونوں آتے ہیں ۹؎رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجھ پر یہ چیز خلط ملط کر دی گئی۱۰؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات سوچی ہے ۱۱∞؎اور آپ نے یہ آیت سوچی"یَوْمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ"تو وہ بولا کہدخہے ۱۲؎فرمایا دور ہوجا تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھے گا۱۳؎حضرت عمر نے عرض کیا یارسول الله کیا مجھے آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن مار دوں۱۴؎تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی ہوا تو تم کو اس پر قابو نہ دیا جاوے گا اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اسکے قتل میں تمہارے لیے بھلائی نہیں۱۵؎ابن عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اور ابی بن کعب ایک دن اس باغ میں تشریف لے گئے جس میں ابن صیاد تھا تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کھجور کی شاخوں میں چھپنے لگے ۱۶؎آپ اس حیلہ سے ابن صیاد سے کچھ سننا چاہتے تھے اس سے پہلے کہ وہ آپ کو دیکھے اور ابن صیاد اپنے بستر پر اپنی کمبلی میں لپٹا ہوا تھا جس میں اس کی کچھ گنگناہٹ تھی ۱۷؎ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کھجور کی شاخوں میں چھپتے ہوئے دیکھ لیا تو بولی اے صاف یہ اس کا نام تھا ۱۸؎یہ ہیں محمد،تو ابن صیاد نے گنگناہٹ بند کردی رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اگر یہ اسے چھو ڑے رہتی تو یہ بیان کردیتا ۱۹؎فرمایا عبدالله ابن عمر نے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں میں کھڑے ہوئے تو الله تعالٰی کی وہ تعریف کی جو اس کے لائق ہے۲۰؎پھر دجال کا ذکر فرمایا،پھر فرمایا کہ میں نے تم کو اس سے ڈرایا ہے اور نہیں ہے کوئی نبی مگر اس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ۲۱∞؎چنانچہ حضرت نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا اور میں تم سے اس کے متعلق وہ بات کہتا ہوں جو کسی نے اپنی قوم سے نہ کہی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے اور الله کانا نہیں ۲۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بنی مغالہ یہود مدینہ کا ایک قبیلہ ہے۔الحمجمع ہےالحمۃکی بمعنی مضبوط قلعہ یا ٹیلہ یعنی اس وقت ابن صیاد یہود کے ان مکانات محلوں ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۲؎ابن صیادکا دعوی تھا کہ وہ آگے پیچھے اندھیرے اُجالے میں یکساں دیکھ لیتا ہے مگر اسے حضور انور کی تشریف آوری کا مطلقًا علم نہیں ہوا۔حضور انور اس کا دعویٰ جھوٹا کرنا چاہتے تھے اس لیے آپ نے پیچھے سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔۳؎اس فرمان عالی میں سارے ایمانیات کی تلقین ہیں جو کوئی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو الله کا رسول مان لے وہ توحید وغیرہ تمام عقائد کو مان لے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ کو اسلام کی تبلیغ کی جائے اور اس کا اسلام قبول کرنا معتبر ہے ورنہ حضور انور اسے یہ تبلیغ کیوں فرماتے۔۴؎یعنی آپ رسول تو ہیں مگر بے پڑھے لوگوں کے،میں خود عالم ہوں آپ میرے رسول نہیں۔بعض یہود کا عقیدہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف عرب کے رسول ہیں عام خلق کے رسول نہیں،یہ عقیدہ بھی کفر ہے اسی لیے ابن صیاد اس کہنے سے مؤمن نہ بنا۔۵؎ابن صیاد کا یہ قول محض حضور انور کے فرمان عالی کے مقابلہ میں ہے ورنہ وہ مدعی نبوت نہ تھا۔خیال رہے کہ کافر ذمی کو قتل نہیں کیا جاتا،نہ کافر بچہ کو قتل کیا جاوے نابالغ بچہ کا ارتداد معتبر نہیں ہے،ان وجوہ سے ابن صیاد قتل نہیں کیا گیا۔لہذا اس حدیث کی بنا پر قادیانی یہ نہیں کہہ سکتے کہ مدعی نبوت مرتد نہیں اور نہ اسے قتل کیا جائے اس حدیث کا منشا کچھ اور ہی ہے۔۶؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میںفرفضہہےرفضسے مشتق بمعنی چھوڑنا یعنی حضور انور نے اسے چھوڑ دیا پھر اس سے یہ سوال نہ کیا۔عام نسخوں میںفرصہہے ص کے شد سے،یہ بنا ہےرصٌسےبمعنی دبوچنا،بعض اعضاء کو بعض سے ملادیا،اسی سے ہےمرصوص، رب تعالٰی فرماتاہے:"کَاَنَّہُمۡ بُنۡیٰنٌ مَّرْصُوۡصٌ"بعض نسخوں میں ہےفرضہنقطہ والی ضاد سے،رضکے معنی ہیں توڑنا مروڑنا۔۷؎یعنی میرا ایمان سارے رسولوں پر ہے اور تو رسول ہے نہیں پھرمیں تجھے رسول الله کیسے کہہ دوں،میں خاتم النبیین ہوں،سب سے آخری نبی،نہ میرے زمانہ میں کوئی نبی ہوسکتا ہے نہ میرے بعد۔خیال رہے کہ حضور انور کے زمانہ میں بھی کوئی نبی نہیں ہوسکتا،جو ایسا مانے وہ مرتد ہے خاتم النبیین کا منکر۔خیال رہے کہ جھوٹے مدعی نبوت سے معجزہ مانگنا کفر ہے جب اس کی تصدیق کی نیت سے ہو۔۸؎یعنی تجھے غائبانہ کون سی چیز نظر آتی ہیں جن کی بنا پر تو بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔۹؎یعنی میرے پاس جنات غیبی خبریں لاتے ہیں جن میں بعض سچی ہوتی ہیں اکثر جھوٹی۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ ابن صیاد نبوت کا مدعی نہ تھا بلکہ اپنے کو کاہن کہتا تھا،یہ نہ کہتا تھا کہ میرے پاس حضرت جبریل آتے ہیں اورمحمدی بیگم کے ساتھ میرے نکاح کی بشارت لاتے ہیں لہذا قادیانی لوگ اس حدیث سے دلیل نہیں پکڑسکتے،مرزا جی اپنے کو صاف صاف نبی کہتے رہے۔۱۰؎یعنی خود تجھے اپنی خبروں کے متعلق اطمینان نہیں تو تیرے ذریعہ کسی اور کو اطمینان کیسے ہوسکتا ہے لہذا تیری صحبت خطرناک ہے۔۱۱∞؎ابن صیاد کا دعویٰ تھا کہ میں لوگوں کے دلوں کے حالات خیالات جانتا ہوں اس لیے حضور انور نے اس سے یہ سوال فرمایا۔معلوم ہوا کہ کاہنوں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ان سے غیبی خبریں پوچھنا جائز ہے،حضور انور نے اس کا جھوٹ ظاہر فرمانے کو یہ سوال کیا اسے اس طرح رسوا کرنا ثواب ہے۔۱۲؎یعنی اس پوری آیت میں سے وہ پورا ایک لفظ بھی معلوم نہ کرسکا لفظدخانکا صرفدخمعلوم کرسکا۔یہ ہی حال کاہنوں کا ہوتا ہے ان کی دس باتوں بلکہ سو میں سے ایک درست نکلتی ہے اور وہ سو میں سے ایک کا پتہ چلاتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور نے یہ آیت اس لیے دل میں سوچی کہ اس میں علامت قیامت کا ذکر ہے اور دجال بھی علامات قیامت سے ہے،نیز قتل دجال مرخ پہاڑ کے نزدیک ہوگا ان وجوہ سے حضور نے یہ آیت سوچی۔(اشعہ،مرقات)۱۳؎یعنی تو صرف ایک کاہن ہے نہ تجھے علم غیب ہے نہ تو خدا ہے نہ خدا کا مقبول بندہ پھر تو مجھ سے کیوں کہتا ہے کہ آپ میری نبوت کی گواہی دیتے ہیں تیری یہ حیثیت اور یہ بات۔۱۴؎یعنی چونکہ اس سے بڑا فتنہ پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لیے اسے قتل کردینا مناسب ہے،یہ ہے حضرت فاروق کا جوش ایمانی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جو جادوگر لوگوں میں فساد پھیلاتے ہیں انہیں ہلاک کرتے ہیں بادشاہ اسلام انہیں قتل کرا دے۔۱۵؎یعنی اگر یہ دجال ہے تو ارادۂ الٰہی یہ ہی ہے کہ دجال کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو یہ نابالغ بچہ بھی ہے ہمارا ذمی کافر بھی اسے قتل کرنا جائز نہیں،صرف کاہن ہونا قتل کے جواز کا سبب نہیں۔حضور انور کا اگر مگر سے کلام فرمانا یا اس لیے تھا کہ اس وقت تک دجال کے متعلق حضور کو پورا علم عطا نہ ہوا تھا بعد میں حضور نے دجال کی شکل اس کے اعمال اس کے خروج کا وقت سب کچھ بتادیا،یہ اسرار الہیہ میں سے ہے جس کا اظہار مناسب نہیں،یہ شک کے لیے نہیں بلکہ تشکیک کے لیے ہے ایسے صیغہ قرآن مجید میں بھی آئے ہیں یہ بےعلمی کی دلیل نہیں یہ ہی قول صحیح ہے۔۱۶؎عرب میں باغ والے لوگ اپنے باغ میں مکان بنالیتے ہیں وہاں ہی رہتے سہتے ہیں،ابن صیاد کے ماں باپ بھی انہیں میں سے تھے۔۱۷؎ابن صیاد بھی گنگناہٹ میں اپنے حالات بیان کردیتا تھا،حضور انور کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت یہ اپنی مستی میں اپنے حالات بیان کررہا ہے ہم خود بھی سن لیں اور اس کے متعلق صحیح فیصلہ کردیں۔اس سے معلوم ہواکہ بے دین مفسدین کے حالات چھپ کر دیکھنا سننا جائز ہے تاکہ ان کے فساد کی روک تھام ہوسکے،آج ملکی انتظامات میں جاسوسی کو بڑا دخل ہے۔جس تجسس سے قرآن کریم میں منع فرمایا گیا وہ مسلمانوں کی عیب جوئی کے لیے تجسس کرنا مراد ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔۱۸؎یعنی حضور انور یہاں تشریف فرما ہیں تو ان کا ادب و احترام کر تعظیم کے لیے اٹھ اپنا گانا چھوڑ۔۱۹؎یعنی یہ بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہوا کہ وہ سب کچھ اپنے متعلق بیان کررہا تھا ایک واقعہ درپیش آگیا کہ وہ کہتے کہتے رک گیا۔معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کا یہ ہی منشاء ہے کہ اس کا حال صیغہ راز میں رہے ورنہ وہ اس وقت اپنی موج میں خود اپنے حالات بیان کررہا تھا کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں یہ کرسکتا ہوں۔۲۰؎حضور انورکا طریقہ مبارکہ تھا کہ اپنا کلام حمد الٰہی سے شروع فرماتے تھے وعظ عمومًا دوسرے کلام خصوصًا،یہ فرمان بطور وعظ تھا۔۲۱∞؎یہاں نبی سے مراد حضرت نوح علیہ السلام ا ور ان کے بعد والے پیغمبر ہیں جیساکہ گزشتہ حدیثوں سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کا ڈرانا اس کی اہمیت کے لیے تھا جیسے حضور نے صحابہ کو قیامت سے ڈرایا حالانکہ ان حضرات کے زمانہ میں قیامت آنے والی نہ تھی۔۲۲؎یہ فرمان عالی ان حضرات کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ ابن صیاد دجال نہیں کہ حضور انور نے فرمایا کہ وہ کانا ہے اور ابن صیاد کانا نہ تھا،نیز یہ صاحبِ اولاد تھا،مدینہ منورہ میں رہتا تھا، مکہ معظمہ حج کے لیے جا تا تھا کیونکہ حضور کے بعد وہ مسلمان ہوگیا تھا۔مرقات نے یہاں فرمایاکہ ابن صیاد مدینہ منورہ میں مرا،اس پر مسلمانوں نے نماز پڑھی،اسے وہاں ہی دفن کیا مگر دوسری روایات میں ہے کہ وہ جنگ حرہ میں گم ہوگیا۔والله اعلم!بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یقین دلا دیا تھا کہ ابن صیاد دجال نہیں،تمیم داری کی حدیث آپ پڑھ ہی چکے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5494