- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5504
باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5504
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةٌ عَيْنُهُ طَالِعَةٌ نَابُهُ، فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالَ، فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ. فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ؟ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ". فَذَكَرَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ، إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ". فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مُشْفِقًا أَنَّهُ هُوَ الدَّجَّالُ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
وعن جابر: أن امرأة من اليهود بالمدينة ولدت غلاما ممسوحة عينه طالعة نابه، فأشفق رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يكون الدجال، فوجده تحت قطيفة يهمهم. فآذنته أمه فقالت: يا عبد الله هذا أبو القاسم فخرج من القطيفة، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما لها قاتلها الله؟ لو تركته لبين". فذكر مثل معنى حديث ابن عمر، فقال عمر بن الخطاب: ائذن لي يا رسول الله فأقتله، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن يكن هو فلست صاحبه، إنما صاحبه عيسى ابن مريم، وإلا يكن هو فليس لك أن تقتل رجلا من أهل العهد". فلم يزل رسول الله -صلى الله عليه وسلم- مشفقا أنه هو الدجال. رواه في "شرح السنة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے کہ ایک یہودیہ عورت نے مدینہ منورہ میں ایک بچہ جنا جس کی ایک آنکھ سپاٹ تھی اس کی ڈاڑھ اگی ہوئی تھی ۱∞؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے خوف کیا کہ یہ ہی دجال ہوگا۲؎اسے ایک کمبل کے نیچے پایا گنگنا رہا تھا۳؎اس کی ماں نے خبر دیدی بولی اے الله کے بندے یہ ابوالقاسم ہیں۴؎تو وہ کمبل سے نکل پڑا تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خدا اسے غارت کرے اسے کیا ہوا ۵؎اگر یہ اسے چھوڑ دیتی تو یہ بیان کر دیتا،پھرحضرت ابن عمر کی حدیث کے معنی کی مثل ذکر کیا تب جناب عمر ابن خطاب نے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کردوں ۶؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہ ہی ہے تو اسکے قاتل تم نہیں اس کے قاتل حضرت عیسیٰ ابن مریم ہیں۷؎اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو تمہیں مناسب نہیں کہ ذمہ والوں میں سے کسی کو قتل کرو ۸؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اس سے خوف فرماتے رہے کہ یہ دجال ہو ۹؎(شرح سنہ)
شرح حدیث
۱∞؎معلوم ہوتا ہے کہ وہ پیدائشی کانا اور ڈاڑھ والا تھا،حدیث پاک کے ظاہری معنی یہ ہی ہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ یہاںنابجنسی معنی میں ہے۔مطلب یہ ہے کہ اس کی ساری ڈاڑھیں کیلیں پیدائشی تھیں۔۲؎اس کے متعلق عرض کیا جاچکا کہ یہاں دجال سے مراد چھوٹا دجال ہے اور ممکن ہے کہ بڑا دجال ہی مراد ہو اور یہ پہلے کا واقعہ ہو بعد میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بڑے دجال کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہوں۔۳؎اس گنگنانے میں وہ اپنے حالات خصوصی بیان کررہا تھا کہ میں یہ ہوں میں وہ ہوں،وہ سب کچھ ہی کہہ جاتا اگر اسے روکا نہ جاتا۔۴؎یعنی یہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں تو اپنا گنگنانا چھوڑ،ان کا ادب و احترام کر۔معلوم ہوتا ہے کہ ماں کی نیت بری نہ تھی اور منظور الٰہی یہ تھا کہ ابن صیاد کے حالات پردہ میں ہی رہیں۔۵؎یعنی اسے سوجھ گیا کہ میری خبر ابن صیاد کو دے کر اسے خاموش کر دیا کچھ دیر خاموش رہی ہوتی۔خیال رہے کہ عربی میںقاتلہ اللهاظہار غضب کے لیے کہا جاتا ہے،اس سے بد دعا مقصود نہیں ہوتی،رب تعالٰی فرماتاہے:"قٰتَلَہُمُ اللہُ اَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ"۔۶؎کیونکہ یہ بڑا فتنہ گر فسادی ہوگا اگرچہ یہ ابھی بے قصور بچہ ہے مگر حضرت خضر نے بھی تو ایک بے قصور بچہ کو اس لیے قتل کیا کہ وہ آگے چل کر فساد پھیلاتا مجھے بھی اس کے قتل کی اجازت دیجئے تاکہ فساد کی جڑ کٹ جائے۔۷؎یعنی اگر یہ وہ ہی بڑا دجال ہے جس کا خروج قریب قیامت ہوگا تو تم اس کے قتل پر قادر نہ ہو گے کہ یہ ارادۂ الٰہی کے خلاف ہے۔۸؎یعنی اسلامی قانون سے اس کا قتل جائز نہیں کہ یہ ہے یہودی ذمی اور ذمی کا قتل بغیر بڑے جرم کے جائز نہیں۔حضرت خضر علیہ السلام بھی اب کسی بے قصور بچے کو قتل نہیں کرسکتے کہ اب وہ بھی اسلامی قوانین کے پابند ہیں۔یہ دین موسوی نہیں جس سے حضرت خضر یا کوئی شخص الگ ہو۔۹؎اس کے متعلق پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ حضور انور کا یہ خوف اولًا تھا پھر بعد میں تو حضور نے دجال کے ایسے حالات بیان فرمائے جن سے ہم سننے والوں کو یقین ہے کہ وہ دجال ابھی نہیں آیا۔ادھر تمیم داری کی وہ حدیث کہ انہوں نے ایک کلیسہ میں اسے زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھا واضح کرتی ہے کہ ابن صیاد دجال نہیں لہذا حضور انور کو بعد میں یقین تھا کہ یہ دجال نہیں ماں باپ کے حالات یکساں ہوسکتے ہیں،صفات کے ایک ہونے سے چند موصوف ایک نہیں ہوجاتے لہذا اس سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بے علمی یا کمی علمی ثابت نہیں ہوتی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5504