Main Icon

باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5500

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّيَّادِ الدَّجَّالُ. قُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟ قَالَ:إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعن محمد بن المنكدر قال: رأيت جابر بن عبد الله يحلف بالله أن ابن الصياد الدجال. قلت: تحلف بالله؟ قال:إني سمعت عمر يحلف على ذلك عند النبي -صلى الله عليه وسلم- فلم ينكره النبي -صلى الله عليه وسلم-. متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن منکدر سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے حضرت جابر ابن عبدالله کو دیکھا کہ وہ الله کی قسم کھاتے ہیں کہ ابن صیاد دجال ہے ۲؎میں نے کہا کہ آپ اکی قسم کھارہے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت عمر کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس پر قسم کھاتے سنا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا انکار نہ فرمایا ۳؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور جلیل القدر تابعی ہیں،بڑے عالم فاضل زاہد ہیں،بہت صحابہ کرام سے ملاقات کی ہے اور بہت سے تابعین نے آپ سے روایات لی ہیں، ۱۳۰ھ؁ ایک سو تیس ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ)آپ سے سفیان ثوری،عمرو ابن دینار جیسے حضرات نے روایات لیں۔۲؎حضرت جابر کا یہ قسم کھانا کسی نص شرعی کی بنا پر نہ تھا بلکہ اپنے ذاتی خیال کی وجہ سے تھا جو انہوں نے بعض علامات سے قائم کیا تھا اسی علامت کا ذکر آگے ہے۔۳؎بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ غالب گمان پر قسم کھالینا جائز ہے قسم کے لیے یقین ضروری نہیں مگر بعض نے فرمایا کہ قسم صرف یقین پر کھائی جاسکتی ہے اور یہاں دجال سے مراد جھوٹا دجال ہے یعنی فتنہ گر فسادی۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں تیس دجال ہوں گے اور ظاہرہے کہ ابن صیاد ان تیس میں سے یقینی ہے خصوصًا اس وقت جب کہ اس نے اسلام ظاہر نہ کیا تھا۔اس معنی سے وہ یقینًا دجال تھا اور یہ قسم یقین پر تھی اور ہو سکتا ہے کہ حضرت جابر کا یہ مذہب ہو کہ یقینًا ابن صیاد دجال اکبر ہے اپنے یقین پرقسم کھائی ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5500