Main Icon

باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5495

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ -يَعْنِي ابْنَ صَيَّادٍ- فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " فَقَالَ هُوَ: أتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، مَاذَا تَرَى؟ " قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ"، قال: "وَمَا تَرَى؟ " قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لُبِسَ عَلَيْهِ فَدَعُوهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: لقيه رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وأبو بكر وعمر -يعني ابن صياد- في بعض طرق المدينة، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أتشهد أني رسول الله؟ " فقال هو: أتشهد أني رسول الله؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "آمنت بالله وملائكته وكتبه ورسله، ماذا ترى؟ " قال: أرى عرشا على الماء. فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ترى عرش إبليس على البحر"، قال: "وما ترى؟ " قال: أرى صادقين وكاذبا أو كاذبين وصادقا فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لبس عليه فدعوه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ اس سے یعنی ابن صیاد سے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم اور جناب ابوبکر و عمر مدینہ منورہ کے بعض راستوں میں ملے ۱∞؎تو اس سے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں الله کا رسول ہوں۲؎تو وہ بولا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں الله کا رسول ہوں۳؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں الله تعالٰی اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اس کے رسولوں پر ایمان لایا،تو کیا دیکھتا ہے بولا میں عرش پانی پر دیکھتا ہوں۴؎تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تو دریا پر ابلیس کا تخت دیکھتا ہے فرمایا تو اور کیا دیکھتا ہے وہ بولا میں دو سچے ایک جھوٹا یا دو جھوٹے ایک ایک سچا دیکھتا ہوں تب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس پر شبہ ڈال دیا گیا ہے ۵؎اسے چھوڑو(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنیکا فاعل حضرت ابو سعید خدری ہیں۔(مرقات)یہ ملاقات عوالی مدینہ میں اتفاقًا تھی اور ابن صیاد کے گھر تشریف لے جانے کا واقعہ دوسرا ہے،اس وقت ابن صیاد مسلمان نہ ہوا حضور انور کے پردہ فرمانے کے بعد مسلمان ہوگیا،صحابہ کرام کے ساتھ اس نے حج کیا۔۲؎اس کے متعلق پہلے عرض کیا گیا کہ ابن صیاد کا یہ قول حضور انور کے مقابلہ میں تھا ورنہ وہ مدعی نبوت نہ تھا۔۳؎جیسے بعض اولیاء الله ابلیس اور اس کے تخت کو آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں اور اس پرلاحولپڑھ کر اسے دفع کردیتے ہیں،بعض بے دین کاہنوں کو بھی وہ نظر آتاہے اور وہ اس سے بہک جاتے ہیں خدا کی پناہ! ابن صیاد کا یہ دیکھنا اسی طرح کا تھا وہ یہ ہی بیان کررہا ہے۔۴؎یعنی اسے اپنی معلومات پرخود ہی یقین نہیں کہ سچی خبر کونسی ہے جھوٹی کونسی تو اس سے کچھ پوچھ گچھ کرنا بے کار ہے۔۵؎اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں ابن صیاد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معتقد ہوگیا تھا کہ حضور سے غیبی خبریں پوچھنے لگا تھا اور آپ کے جواب پرکسی قسم کی جرح قدح نہیں کرتا تھا،حضور کے پردہ فرمانے کے بعد تو مسلمان ہوگیا تھا۔معلوم یہ بھی ہوا کہ ابن صیاد بھی یہ جانتا تھاکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو علم غیب ہے وہ جنت و دوزخ زمین و آسمان سب کی خبر رکھتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5495