Main Icon

باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5499

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقِيتُهُ وَقَدْ نَفَرَتْ عَيْنُهُ،فَقُلْتُ: مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى؟ قَالَ: لَا أَدْرِي. قُلْتُ: لَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ؟ قَالَ: إِنْ شَاءَ اللَّهُ خَلَقَهَا فِي عَصَاكَ، قَالَ: فَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن عمر قال: لقيته وقد نفرت عينه،فقلت: متى فعلت عينك ما أرى؟ قال: لا أدري. قلت: لا تدري وهي في رأسك؟ قال: إن شاء الله خلقها في عصاك، قال: فنخر كأشد نخير حمار سمعت. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں ابن صیاد سے ملا اس کی آنکھ سوج گئی ۱∞؎تو میں نے کہا کہ تیری آنکھ نے کیا کیا جو میں دیکھ رہا ہوں بولا مجھے خبر نہیں ۲؎میں نے کہا کہ تجھے خبرنہیں حالانکہ وہ تیرے سر میں ہے بولا اگر الله چاہے تو تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے۳؎فرماتے ہیں پھر گدھے کی سی سخت آواز نکالی جو تو نے سنا ہو۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلے اس کی آنکھ اچھی بھلی تھی کہ اچانک سوج گئی اور کسی علاج سے اچھی نہ ہوئی پہلے میں نے اس کی آنکھ اچھی دیکھی تھی آج ورم ہوگیا۔۲؎یعنی بغیر سبب بغیر وجہ خود بخود یہ آنکھ ایسی ہوگئی۔۳؎اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد خدا کو مانتا تھا،اس کے قادر مطلق ہونے پر ایمان رکھتا تھا،وہ کہہ یہ رہا ہے کہ مجھے یہ ورم تکلیف کے بغیر ہوا ہے اس لیے مجھے پتہ نہ لگا اگرچہ آنکھ میرے سر میں تھی جیسے اے ابن عمر اگر رب تعالٰی اچانک تمہاری لاٹھی میں آنکھ پیدا کردے بغیرکسی سبب کے تو اگرچہ لاٹھی تمہارے ساتھ رہتی ہے مگر تمہیں پتہ نہ لگے گا کیونکہ یہ کام اچانک ہوگا ایسے ہی میرا معاملہ ہے۔۴؎یعنی تم نے جتنے گدھوں کی آواز سنی ہو ان میں سخت تر آواز سے وہ رینگنے لگا کوئی گدھا اتنی سخت آواز سے نہیں رینگتا۔اس میں دو احتمال ہیں: یاسمعتمتکلم کا صیغہ ہو یاسمعتواحد مخاطب کا صیغہ دونوں مطلب درست ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5499