- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5503
باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5503
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا، لَا يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ، ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ،وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ"، ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَبَوَيْهِ فَقَالَ: "أَبُوهُ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ، وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُودِ بِالمَدِينَةِ. فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ، فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِيهِمَا، فَقُلْنَا: هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ؟فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ، ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً، تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا، فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ، فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ: مَا قُلْتُمَا؟ وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
وعن أبي بكرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يمكث أبو الدجال ثلاثين عاما، لا يولد لهما ولد، ثم يولد لهما غلام أعور أضرس،وأقله منفعة، تنام عيناه ولا ينام قلبه"، ثم نعت لنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أبويه فقال: "أبوه طوال ضرب اللحم كأن أنفه منقار، وأمه امرأة فرضاخية طويلة اليدين". فقال أبو بكرة: فسمعنا بمولود في اليهود بالمدينة. فذهبت أنا والزبير بن العوام حتى دخلنا على أبويه، فإذا نعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فيهما، فقلنا: هل لكما ولد؟فقالا: مكثنا ثلاثين عاما لا يولد لنا ولد، ثم ولد لنا غلام أعور أضرس وأقله منفعة، تنام عيناه ولا ينام قلبه، قال: فخرجنا من عندهما، فإذا هو منجدل في الشمس في قطيفة وله همهمة، فكشف عن رأسه فقال: ما قلتما؟ وهل سمعت ما قلنا؟ قال: نعم، تنام عيناي ولا ينام قلبي. رواه الترمذي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال کا باپ تیس سال تک لاولد رہے گا کہ اس کے ۱∞؎اولاد نہ ہوگی پھر ان کے کانا بڑی ڈاڑھ والا کم نفع والا لڑکا پیدا ہوگا۲؎جس کی آنکھیں سوئیں گی اس کا دل نہ سوئے گا۳؎پھر رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ماں باپ کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ اس کا باپ دراز قد دبلا ہوگا گویا اس کی ناک چونچ ہے اور اس کی ماں موٹی لمبے ہاتھ والی عورت ہے۴؎ابوبکر کہتے ہیں کہ ہم نے مدینہ منورہ میں یہود میں ایک بچہ سنا تو میں اور زبیر ابن عوام گئے ۵؎حتی کہ ہم اس کے ماں باپ کے پاس گئے تو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے بیان کردہ اوصاف ان دونوں میں تھے ۶؎تو ہم نے کہا کیا تمہارے کوئی بچہ ہے تو وہ دونوں بولے ہم تیس سال رہے کہ ہمارے اولاد نہ ہوئی پھر ہمارے کانا۷؎بڑی ڈاڑھ والا بچہ پیدا ہوا کم نفع والا جس کی آنکھیں سوتی اور اس کا دل نہیں سوتا۸؎فرماتے ہیں کہ ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ دھوپ میں ایک کمبل میں لیٹا ہوا تھا اس کی کچھ گنگناہٹ تھی ۹؎تو اس نے اپنا سر کھولا تو بولا کہ تم نے کیا کہا ہم نے کہا کہ کیا تم نے ہماری بات سن لی بولا ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۱۰؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎یہ وہ علامات ہیں جن کی بناء پر بعض صحابہ کو یقین ہوگیا کہ ابن صیاد دجال ہے۔ممکن ہے اس حدیث میں دجال سے مراد بڑا دجال نہ ہو بلکہ چھوٹے دجالوں میں سے ایک دجال ہو۔(مرقات)۲؎اضرسکے دو معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اس کے منہ میں پیدائشی ڈاڑھ ہوگی کہ اپنے منہ میں ماں کے پیٹ سے ڈاڑھ لائے گا، دوسرے یہ کہ پیدا تو بغیر دانت و داڑھ کے ہی ہوگا مگر جب اس کے ڈاڑھیں نکلیں گی تو دوسرے انسانوں سے بڑی ہوں گی،دوسرے معنی کو ترجیح دی گئی ہے۔۳؎یعنی اس بچہ میں دوسری حیرت ناک بات یہ ہوگی کہ وہ گھر والوں یا دوسرے کو کوئی فائدہ نہ دے گا یا بہت کم دے گا،کام کاج کم کرے گا،ماں باپ کی فرمانبرداری کم کرے گا مگر نقصان زیادہ دے گا،اس کے ذریعہ چیزیں زیادہ خراب ہوں گی،لوگوں سے لڑائی دنگے بہت کرے گا۔سوتے میں دل اس کا بیدار رہے گا کہ لوگوں کی باتیں سن لیا کرے گا،ہر چیز دیکھ لیا کرے گا۔۴؎یعنی جیسے اس لڑکے میں چند حیرتناک علامات ہوں گی ایسے ہی اس کے ماں باپ میں چند خصوصیات ہوں گی جن علامات سے وہ دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوں گے۔باب لمپا دبلا،ناک چونچ کی طرح،ماں موٹی لمبے ہاتھ والی،الله تعالٰی نے اپنے محبوب کو ہر چیز بتائی بلکہ دکھائی ہے۔۵؎یعنی ہم کو خبر لگی کہ یہود مدینہ میں ایک بچہ اس شکل و شبہات کا پیدا ہوا ہے جو حضور انور نے ارشاد فرمائی تھی ہم کو اس کے دیکھنے کا شوق ہوا اس لیے ہم اس محلہ میں اس کے گھر گئے۔۶؎ان بزرگوں نے اس بچہ کو دیکھنے سے پہلے اس کے ماں باپ کی تحقیق کی،انہیں اسی طرح کا پایا جو حضور انور نے دجال کے ماں باپ کے متعلق خبر دی تھی۔خیال رہے کہ کافرہ،فاسِقہ،بے پردہ آوارہ عورتوں کا دیکھنا حرام نہیں خصوصًا ضرورت کے وقت۔ان بزرگوں نے اس کی ماں کو تحقیق کے لیے دیکھا طبیب مریضہ کو،قاضی شاہدہ کو،گواہ مدعیہ کو ضرورۃً دیکھ سکتے ہیں۔۷؎غالبًا وہ پیدائشی ایک آنکھ کا کانا ہوگا بعد میں یہ ہی آنکھ سوج گئی ہوگی یا دوسری آنکھ لہذا یہ حدیث گزشتہ اسی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہم نے دیکھا اس کی ایک آنکھ آج سوج گئی،ہم نے پوچھا کب سوجی وہ بولا مجھے خبر نہیں۔۸؎چنانچہ اس کے سونے کی حالت میں جو کچھ کہا جاوے وہ سن لیتا ہے،جو کوئی آئے اسے دیکھ لیتا ہے،پھر خراٹے بھی لیتا ہے۔خیال رہے کہ دجال کے لیے یہ صفت عیب ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ صفت کمال ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم سوتے ہیں سب کچھ دیکھتے سنتے ہیں ان کی حفاظت و ہدایت کے لیے،وہ سب کو دیکھتا ہے گمراہ کرنے کے لیے۔دجال کی گمراہ گری کبھی بند نہیں ہوتی،حضور انور کی ہدایت کبھی نہیں رکتی۔اب بھی حضور ہم سب کو دیکھتے ہم سب کی سنتے ہیں۔۹؎ھمھمۃگائے کی ہلکی آواز کو کہتے ہیں۔یہاں وہ آواز مراد ہے جو سوتے میں نکلتی ہے جس میں انسان کچھ باتیں کرتا ہے،اسے اردو میں گنگناہٹ یا بڑبڑانا کہتے ہیں۔(مرقات)۱۰؎اس لیے میں نے سوتے میں ہی تم کو دیکھ بھی لیا اور تمہاری باتیں سن بھی لیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5503