Main Icon

باب : ابن صیاد کا قصہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5497

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عُمَرَ ابْنَ صَيَّادٍ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا أَغْضَبَهُ فَانْتَفَخَ حَتَّى مَلأَ السِّكَّةَ. فَدَخَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى حَفْصَةَ وَقَدْ بَلَغَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ مَا أَرَدْتَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ؟ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ غَضْبَةٍ يَغْضَبُهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن نافع قال: لقي ابن عمر ابن صياد في بعض طرق المدينة، فقال له قولا أغضبه فانتفخ حتى ملأ السكة. فدخل ابن عمر على حفصة وقد بلغها، فقالت له: رحمك الله ما أردت من ابن صياد؟ أما علمت أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إنما يخرج من غضبة يغضبها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر مدینہ منورہ کے بعض راستوں میں ابن صیاد سے ملے ۱∞؎تو آپ نے اس سے ایسی بات کہی جس نے اسے غضب ناک کردیا تو وہ پھولا حتی کہ گلی بھردی ۲؎پھر ابن عمر جناب حفصہ کے پاس گئے انہیں یہ خبر پہنچ چکی تھی انہوں نے ان سے کہا الله تم پر رحمت کرے تم نے ابن صیاد سے کیا چاہا کیا تمہیں خبرنہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دجال ایک غصہ کی حالت میں ہی نکلے گا جس پر اسے غصہ آوے گا۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات شریف کے بعد کا ہے جیساکہ مضمون حدیث سے واضح ہے۔۲؎حدیث بالکل ظاہر پر ہے واقعی وہ پھول کر اتنا موٹا ہوگیا کہ گلی ساری بھر گئی،اب بھی بعض چیزوں میں ہوا بھردی جاوے تو موٹی ہو جاتی ہیں۔۳؎یعنی اے ابن عمر تم اسے غصہ نہ دلاؤ اگر یہ واقعی دجال ہوا تو ابھی تم اسے غصہ سے دجال بنا دو گے اور ابھی اس کے خروج کا وقت ہے نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5497