Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5612

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ. واقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17]. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "قال الله تعالى: أعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر. واقرؤوا إن شئتم: {فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين} [السجدة: 17]. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ۱∞؎وہ نعمتیں تیار کی جو نہ آنکھ نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خطرہ گزرا ۲؎اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ انکے لیے کیسی آنکھ کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎صالحینیا تو بنا ہےصلاحسے یا صلاحیت سے یعنی نیک اعمال والے بندوں کے لیے یا جنت کے قابل لوگوں کے لیے،پہلی صورت میں جنت کسبی مراد ہے،دوسری صورت میں عام جنت کسبی ہو یا وہبی یا عطائی لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سواء نیک اعمال والوں کے لیے کوئی جنت میں نہ جاوے گا شفاعت وغیرہ کچھ نہیں۔۲؎یعنی وہاں کی نعمتیں نہ تو بیان میں آسکتی ہیں نہ گمان میں وہ تو دیکھ کر ہی معلوم ہوں گی،الله تعالٰی خیریت سے دکھائے اپنے فضل و کرم سے۔خیال رہے کہ یہاں آنکھ،کان،دل سے مراد عوام مسلمانوں کے آنکھ،کان،دل ہیں ورنہ حضرت آدم علیہ السلام تو وہاں رہ کر آئے، ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں وہاں کی سیر فرمائی،حضرت ادریس علیہ السلام تو وہاں موجود ہی ہیں،یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں وہ ان جیسی نعمتیں کسی آنکھ نے نہ دیکھیں نہ سنیں،واقعی دنیا میں نہ ایسی نعمتیں ہیں نہ کسی کے دیکھنے میں آئیں۔۳؎اس آیتِ کریمہ میں بھی نفس سے مراد عالم لوگ ہیں،آنکھ کی ٹھنڈک سے مراد دل کی خوشی و سرور کے اسباب ہیں جن سے دل چین میں رہیں،آج بیٹے کو کہا جاتا ہے قرۃ العین۔اس آیت و حدیث سے معلوم ہوجاتا ہے کہ جنت اور وہا ں کی نعمتیں پیدا ہوچکی ہیں، کیوں نہ ہو کہ حضرتِ آدم و حوا وہاں رہ چکے ہیں اور ہمارے حضور دیکھ آئے ہیں، وہاں کی بہت سی نعمتیں اب دنیا میں بھی آرہی ہیں،نیل و فرات وہاں سے آرہی ہیں حجر اسود جنت سے ہی آیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5612