Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5624

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَو الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ، لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ. قَالَ: "بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن أهل الجنة يتراءون أهل الغرف من فوقهم، كما تتراءون الكوكب الدري الغابر في الأفق من المشرق أو المغرب، لتفاضل ما بينهم" قالوا: يا رسول الله! تلك منازل الأنبياء، لا يبلغها غيرهم. قال: "بلى، والذي نفسي بيده، رجال آمنوا بالله وصدقوا المرسلين". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنتی لوگ اپنے اوپر بالاخانہ والوں کو اس طرح ایک دوسرے کو دکھائیں گے جیسے تم چمکدار تارے کو جو شرقی غربی کنارے میں ہو ایک دوسرے کو دکھاتے ہو ۱∞؎ان کے درمیان فضیلت کی وجہ سے۲؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله یہ تو انبیاءکرام کی منزلیں ہوں گی جن تک ان کے سواء کوئی نہ پہنچ سکے گا ۳؎فرمایا ہاں کیوں نہیں اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ لوگ وہاں پہنچیں گے جو الله پر ایمان لائے رسولوں کی تصدیق کی۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جنت کے نیچے درجے والے جنتی اعلٰی جنتیوں کو اس طرح ایک دوسرے کو دکھائیں گے جیسے دنیا میں مشرق سے نکلتے چاند تاروں کو ڈوبتے ہوئے دکھاتے ہیں کہ وہ ہیں حضرت ابوبکر صدیق وہ ہیں حضرت بلال دیکھو وہ رہے حضرت حسین رضی الله عنہم،یا یہاں کی عورتیں ایک دوسرے سے کہیں گی دیکھو وہ ہیں خاتون جنت فاطمہ زہرا ہیں،جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھن ان حضرات کا دیدار بھی بڑی نعمت ہوگی،آج مدینہ کی گلیوں کو ہم ترستے ہیں،مدینہ دیکھ کر سب رنج و غم بھول جاتے ہیں،جب مدینہ والے محبوب اور ان کے خدام کو دیکھیں گے تو خوشی کا کیا حال ہوگا۔شعر
میرا دل زار مدینہ میں ہے میں ہوں یہاں یار مدینہ میں ہے
خلد کا بازار مدینہ میں ہے احمد مختار مدینہ میں ہے
۲
؎یعنی سب جنتی ایک درجے کے نہ ہوں گے ان کے درجے مختلف ہوں گے۔اعلی درجہ کے جنتی اوپر کے طبقوں میں مگر نیچے والوں کو اپنے ادنی ہونے کا خیال بھی نہ آوے گا بلکہ اوپر والوں کو دیکھ کر خوشی ہوگی ایسی خوشی بیان نہیں ہوسکتی۔۳؎سائل کا مقصد یہ ہے کہ ایسے بلند درجات والے جو آسمانی تاروں کی طرح نظر آویں وہ حضرات انبیاء کرام ہی ہوسکتے ہیں،ہم امتیوں میں سے تو کوئی ہوگا نہیں۔۴؎یہاں ایمان بالله سے مراد عیانی ایمان ہے اور تصدیق رسل سے مراد فنا والی تصدیق ہے یعنی ایمان و تصدیق کا اعلی درجہ لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سارے ہی جنتی مؤمن ہوں گے وہاں کافر تو کوئی جائے گا نہیں تو پھر نیچے درجوں میں کون رہے گا،عیانی ایمان کی دلیل وہ آیت ہے"قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیۡ"سن کر تصدیق،دیکھ کر تصدیق،داخل ہوکر تصدیق،فنا ہوکر تصدیق ان سب میں بڑا فرق ہے،یہاں یہ آخری درجہ والی تصدیق مراد ہے۔ہم نے عرض کیا شعر
اس طرح سما مجھ میں ہوجاؤں میں گم تجھ میں پھر بھی تو ہی تماشا ہو اور تو ہی تماشائی
مرسلینجمع فرماکر اشارۃً فرمایا کہ یہ فرق مراتب صرف امت محمدیہ میں ہی نہ ہوگا،بلکہ ساری امتوں میں ہوگا کہ ان کے جنتی بعض اوپر ہوں گے بعض نیچے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5624