Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5650

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَكِيم بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ، وَبَحْرَ الْعَسَلِ، وَبَحْرَ اللَّبَنِ، وَبَحْرَ الْخَمْرِ، ثُمَّ تُشَقَّقُ الأَنْهَارُ بَعْدُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن حكيم بن معاوية قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن في الجنة بحر الماء، وبحر العسل، وبحر اللبن، وبحر الخمر، ثم تشقق الأنهار بعد". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حکیم ابن معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں پانی کا دریا ہے اور شہد کا دریا ہے اور دودھ کا دریا ہے اور شراب کا دریا ہے پھر اس سے آگے نہریں نکلتی ہیں ۱∞؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جیسے دنیا میں بحر سے نہریں نکلتی ہیں ایسے ہی وہاں جنت میں پانی،دودھ،شراب طہور اور شہد کے الگ الگ دریا ہیں جو ان چیزوں کا مرکز یا خزانہ ہیں۔وہاں سے چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں جو ہرجنتی کے گھروں میں پہنچتی ہیں جیسے دہلی کے لال قلعہ میں جمنا تک نہریں لائی گئی ہیں،جو وہاں کے کمروں میں پہنچتی ہیں،جن کا فرش اور دیواریں سنگ مرمر کی ہیں،بحر اور نہر میں بہت فرق ہیں جو ہم نے اپنی تفسیر میں عرض کیے ہیں"تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ"کے ماتحت۔خیال رہے کہ اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے"فِیۡہَاۤ اَنْہٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَیۡرِ اٰسِنٍ وَ اَنْہٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیۡنَ وَ اَنْہٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی"وہ آیت اسی کی تائید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5650