Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5641

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَا الْكَوْثَرُ؟ قَالَ: "ذَاكَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ -يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ- أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، فِيهِ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ قَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذِهِ لَنَاعِمَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس قال: سئل رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: ما الكوثر؟ قال: "ذاك نهر أعطانيه الله -يعني في الجنة- أشد بياضا من اللبن، وأحلى من العسل، فيه طير أعناقها كأعناق الجزر قال عمر: إن هذه لناعمة، قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أكلتها أنعم منها". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کوثر کیا ہے فرمایا یہ ایک نہر ہے جو الله نے مجھے عطا فرمائی ہے یعنی جنت میں دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھی،اس میں پرندے جن کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہیں۲؎عمران بولے یہ تو خوب ہی ہے۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا وہاں کے کھانے ان سے بھی زیادہ خوب ہیں۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض کوثر جنت کے اندر ہے وہاں کی شاخیں جنت کے باہر بلکہ میدان محشر میں پہنچی ہوں گی جیساکہ پچھلی احادیث میں گزرا۔۲؎گویا وہ وہاں کے شتر مرغ ہیں مگر ان کا حسن و جمال رب ذوالجلال ہی جانتا ہے۔۳؎یعنی یہ نعمتیں بہت اچھی ہیں یا وہ شتر مرغ بہت عمدہ موٹے خوشنما ہوں گے۔۴؎یعنی یہ پرندے تو فقط دیکھنے کی نعمت ہے جو بڑی بھلی معلوم ہوگی اگر وہاں کے کھانے دیکھو تو وہ ان سے کہیں زیادہ اچھے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5641