Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5652

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ مَسْنَدًا قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ، ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَةٌ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبِهِ ، فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْأَةِ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَيَرُدُّ السَّلَامَ وَيَسْأَلُهَا: مَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أنا مِنَ الْمَزِيدِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا، فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءَ ذَلِكَ، وإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ، إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

عن أبي سعيد عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن الرجل في الجنة ليتكئ في الجنة سبعين مسندا قبل أن يتحول، ثم تأتيه امرأة فتضرب على منكبه ، فينظر وجهه في خدها أصفى من المرأة، وإن أدنى لؤلؤة عليها تضيء ما بين المشرق والمغرب، فتسلم عليه، فيرد السلام ويسألها: من أنت؟ فتقول: أنا من المزيد، وإنه ليكون عليها سبعون ثوبا، فينفذها بصره حتى يرى مخ ساقها من وراء ذلك، وإن عليها من التيجان، إن أدنى لؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ جنت کا ایک شخص جنت میں ستر مسندوں پر تکیہ لگائے ہوگا ۱∞؎اس کے کروٹ لینے سے پہلے ۲؎پھر اس کے پاس ایک عورت آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے گی۳؎یہ شخص اس کے رخسار میں اپنا منہ دیکھے گا آئینہ سے زیادہ صاف ہوگا۴؎اس پر ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکادے گا وہ اسے سلام کرے گی یہ اس کاجواب دے گا اور اس سے پوچھے گا تو کون ہے وہ کہے گی میں زائد نعمتوں سے ہوں ۵؎اس پر ستر جوڑے ہوں گے جنہیں اس کی نظر آر پار کرجاوے گی حتی کہ اس کی پنڈلی کی مینگ ان کے اوپر سے دیکھے گا ۶؎اس عورت پر ایسے تاج ہوں گے کہ ان کا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دے گا ۷؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث ترمذی نے حکیم ابن معاویہ سے روایت کی اور راوی نے معاویہ ابن ابوسفیان سے احمد نے معاویہ ابن عبدہ سے۔(مرقات)۲؎یعنی جنت میں نیند نہیں بیٹھنا،لیٹنا چلنا،پھرنا آرام کرنا سب کچھ ہوگا۔مطلب یہ ہے کہ مؤمن اپنے پلنگ پر جب بیٹھے گا تو اس کے نیچے اوپر تلے ستر۷۰ مسندیں تکیوں کی طرح ہوں گی،یہ حالت تو لیٹنے اور کروٹ لینے سے پہلے ہوگی پھر اس کا لیٹنا کروٹ لینا کیسے بستروں پر ہوگا وہ تو رب ہی جانتا ہے،اشعہ اور لمعات میں اس کا یہی مطلب بیان کیا۔مرقات نے فرمایا کہ یہ ستر۷۰ مسندیں آگے پیچھے بچھائی جائیں گی رنگ برنگی کبھی کیسی کبھی کیسی۔۳؎یہ عورت اس کی بیوی ہوگی اور ہاتھ رکھنا اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہوگا،یہ مار پیٹ لڑائی جھگڑے کی ضر ب نہ ہوگی۔۴؎یعنی جیسے تم دنیا میں آئینہ میں اپنا چہرہ صاف دیکھتے ہو ایسے ہی وہاں اس بیوی کے چہرہ میں اپنا چہرہ بلکہ ہر چیز صاف صاف دیکھوگے کہ اسکا چہرہ دنیاوی آئینہ سے زیادہ شفاف ہوگا۔۵؎یعنی تجھ کو دوسری نعمتیں اور دوسری بیویاں تیرے اعمال کے عوض دی گئی ہیں اور میں تیری وہ خصوصی بیوی ہوں جو محض رب ذوالجلال کے فضل سے زائد دی گئی ہوں،رب فرماتاہے:"لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ فِیۡہَا وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ" اور فرماتاہے:"لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَ زِیَادَۃٌ"حسنیتو جنت ہے اور وہاں کی نعمتیں زیادتی الله کا دیدار ہے اور یہ خاص بیوی جو عطیہ خاص ہے۔۶؎معلوم ہوا کہ یہ بیوی دوسری بیویوں سے زیادہ حسین اور شفاف و پاکیزہ ہوگی کیوں نہ ہو کہ وہ تو رب کا خاص عطیہ ہے۔۷؎یہ مختلف تاج وہ بیوی بہ یک وقت نہ پہنے گی بلکہ آگے پیچھے کبھی وہ تاج کبھی دوسرا تاج اور ہر تاج دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5652