Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5644

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِئَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ، وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".

وعن بريدة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أهل الجنة عشرون ومئة صف، ثمانون منها من هذه الأمة، وأربعون من سائر الأمم". رواه الترمذي والدارمي والبيهقي في "كتاب البعث والنشور".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جنت والے ایک سو بیس صفیں ہیں ۱∞؎جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہیں اور چالیس صفیں باقی ساری امتوں کی ۲؎(ترمذی،دارمی،بیہقی کتاب البعث والنشور)

شرح حدیث

۱∞؎صفیں کتنی بڑی ہیں یہ ہمارے خیال و وہم سے وراء ہے ان ایک سوبیس صفوں میں از آدم تا روز قیامت سارے مؤمن آجائیں گے۔۲؎خلاصہ یہ ہے کہ کل جنتیوں میں دو تہائی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہوگی اور ایک تہائی میں ساری پچھلی امتیں، نوع میں وہ لوگ زیادہ کہ وہ ایک لاکھ تئیس ہزار نو سو ننانوے نبیوں کی امتیں ہوں گی مگر تعداد اشخاص میں یہ امت زیادہ۔خیال رہے کہ اولًا یہ امت تمام جنتیوں کی نصف ہوگی پھر بعد میں اور زیادہ ہو کر دو تہائی ہوجاوے گی لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں اس امت کو تمام جنتیوں کا آدھا فرمایا گیا،اس کے اوربھی بہت جواب دیئے گئے ہیں،یہ جواب قوی ہے۔والله اعلم!دیکھو قرآن مجید میں بدری فرشتوں کی تعداد ایک ہزار بھی فرمائی گئی،تین ہزار بھی،پانچ ہزار بھی کہ وہاں اولًا ایک ہزار آئے،پھر دو ہزار اور آئے جس سے تین ہزار ہوگئے پھر دو ہزار اور آئے جس سے پانچ ہزار ہوگئے ایسے ہی یہاں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5644