Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5617

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "فِي الْجَنَّةِ مِئَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً، مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الأَرْبَعَةُ، وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ الْعَرْشُ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي "الصَّحِيحَيْنِ" وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ.

وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "في الجنة مئة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض، والفردوس أعلاها درجة، منها تفجر أنهار الجنة الأربعة، ومن فوقها يكون العرش، فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس". رواه الترمذي ولم أجده في "الصحيحين" ولا في كتاب الحميدي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں سو منزلیں ہیں ہر دو منزلوں کے درمیان فاصلہ ایسا ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان اور فردوس اعلی درجہ ہے جس سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں ۲؎اور اس کے اوپر عرش ہوتا ہے۳؎تو تم جب بھی الله سے مانگو تو اس سے فردوس مانگو۴؎(ترمذی)اور یہ حدیث میں نے نہ مسلم، بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں۵؎

شرح حدیث

۱∞؎اب تک دنیا میں پچاس منزلہ عمارتیں بن سکتی ہیں یہ بھی سنا ہے رب جانے غلط ہے یا درست۔یہ منزلیں چھوٹی چھوٹی ہیں وہاں سو منزلہ عمارتیں ہر منزل کی چھت آسمان کی طرح اونچی،بعض روایات میں ہے کہ جنت کی منزلیں قرآن مجید کی آیات کی برابر ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ سو منزلیں ایک جنتی کی ملک ہوں۔(مرقات)یا یہ مطلب ہے کہ جنت کے اوپر تلے سو طبقات ہیں،ہر دو طبقات کے درمیان فاصلہ اتنا ہے جتنا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیان ہے۔۲؎شارحین فرماتے ہیں کہ فردوس میں تمام وہ نعمتیں جمع ہیں جو دوسری جنتوں میں ہیں،ان سب کے علاوہ اور بہت نعمتیں ہیں۔اس طبقہ میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے جنت کی چاروں نہریں پانی،دودھ،شہد اور شراب طہور کی نہریں جاری ہیں،سب نہروں کا سر چشمہ یہاں ہے۔خیال رہے کہ جنت میں جتنا درجہ اونچا اتنا وہاں آرام زیادہ اور دوزخ میں جتنا طبقہ نیچا اتنی تکلیف زیادہ۔۳؎معلوم ہوا کہ سب سے اونچا طبقہ یہ ہی فردوس ہے جس پر جنت ختم ہے اس لیے اسی کی طلب کا حکم دیا جارہا ہے یہ حکم سب کو ہے۔۴؎رب تعالٰی دے گا اپنی مرضی سے مگر ہم مانگنے میں کمی کیوں کریں،خوب بلند حوصلہ کرکے مانگیں کبھی کریم کی عطا مانگنے والے کے حوصلے کے مطابق ہوتی ہے۔۵؎یہ صاحب مصابیح پر اعتراض ہے کہ انہوں نے پہلی فصل میں وہ حدیث بیان کی جو ترمذی کی ہے نہ تو بخاری میں ہے نہ مسلم میں نہ ان دونوں کی جامع یعنی کتاب حمیدی میں ہے مگر یہ حدیث بخاری میں دو جگہ ہےکتاب الجہادمیں اور بابکان عرشہ علی الماءمیں اور مسلم میںباب فضل الجہادمیں،بخاری میں بروایت ابوہریرہ تھوڑے فرق سے ہے۔(مرقات و اشعہ)غالبًا صاحب مشکوۃ کو ملی نہیں اسی لیے کہالم اجدمجھے نہ ملی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5617