- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5648
باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5648
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ، وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ". وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: "وَمَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، يُرَدُّونَ بَنِي ثَلَاثِينَ فِي الْجَنَّةِ لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ".
وَبِهَذَا الإسْنَاد قَالَ: "إِنَّ عَلَيْهِمُ التِّيجَانَ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: "الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي". وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: "إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ الْوَلَدَ كَانَ فِي سَاعَةٍ، وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَرَوَىَ ابْنُ مَاجَهْ الرَّابِعَةَ وَالدَّارِمِيُّ الأَخِيرَةَ.
وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أدنى أهل الجنة الذي له ثمانون ألف خادم، واثنتان وسبعون زوجة، وتنصب له قبة من لؤلؤ وزبرجد وياقوت كما بين الجابية إلى صنعاء". وبهذا الإسناد قال: "ومن مات من أهل الجنة من صغير أو كبير، يردون بني ثلاثين في الجنة لا يزيدون عليها أبدا، وكذلك أهل النار".
وبهذا الإسناد قال: "إن عليهم التيجان أدنى لؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب".
وبهذا الإسناد قال: "المؤمن إذا اشتهى الولد في الجنة كان حمله ووضعه وسنه في ساعة كما يشتهي". وقال إسحاق بن إبراهيم في هذا الحديث: "إذا اشتهى المؤمن في الجنة الولد كان في ساعة، ولكن لا يشتهي"، رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب. وروى ابن ماجه الرابعة والدارمي الأخيرة.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا ۱∞؎جس کے اسّی ہزار خادم ہوں اور بہتر بیویاں ۲؎اور اس کے لیے موتیوں زبرجد اور یاقوت کا خیمہ لگایا جاوے گا ۳؎جیساکہ جابیہ اور صنعاء کے درمیان کا فاصلہ ہے۴؎اور اسی اسناد سے ہے فرمایا جو جنتی چھوٹا یا بوڑھا مرجاوے گا وہ جنت میں تیس سال کا بنادیا جاوے گا،یہ لوگ اس عمر سے کبھی نہ زیادہ ہوں گے۵؎اسی طرح آگ والے لوگ ۶؎اور اسی اسناد سے ہے کہ فرمایا ان پر تاج ہوں گے جنکا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دےگا۷؎اوراسی اسناد سے ہے فرمایا مؤمن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اس کا جننا اس کا عمر رسیدہ ہونا پل بھر میں ہوجاوے گا جیسا وہ چاہے ۸؎اور کہا اسحاق ابن ابراہیم نے اس حدیث کے متعلق کہ جب مؤمن جنت میں اولاد چاہے گا تو ایک پل میں ہوجاوے گی مگر وہ چاہے گا نہیں۹؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابن ماجہ نے چوتھی حدیث اور دارمی نے آخری حدیث نقل فرمائی۔
شرح حدیث
۱∞؎یہاں ادنیٰ سے مراد کم بیویوں والا کم خدام والا جنتی ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔وہاں ادنی کوئی نہیں سب اعلٰی ہیں،ہاں بعض بہت ہی اعلی ہیں،دیکھو نبی سب اعلی ہیں مگر بعض بہت اعلیٰ"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ"اور فرمایا "وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ"۔۲؎جن میں سے دو تو حورعین ہیں،باقی دنیا کی وہ بیوی جو اس جنتی کے نکاح میں یا حق نکاح میں فوت ہوئی اور وہ عورت جو کنواری مری یا جس کا خاوند کافر مرا یہ مؤمنہ مری لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ ایک جنتی کو دو حور عین عطا ہوں گی مگر یہاں مرقات نے کہا کہ دو بیویاں دنیا کی عورتیں اور ستر بیویاں حور۔اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان ستر حوروں میں دو حورعین باقی اڑسٹھ دوسری حوریں۔۳؎یعنی اس خیمہ کی ساخت تو زبرجد لکڑی کی ہوگی مگر اس میں موتی ویاقوت جڑے ہوں گے۔(مرقات)لہذا یہ حدیث غریب ہے۔۴؎یعنی اس خیمہ کی لمبائی چوڑائی ایسی ہوگی کہ اس کے دو کناروں میں فاصلہ وہ ہوگا جو جابیہ اور صنعاء شہروں میں ہے۔پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ جابیہ شام کا ایک شہر ہے اور صنعاء یمن کی مشہور بستی ہے ان میں فاصلہ بہت ہی دراز ہے۔۵؎یعنی دنیا میں مؤمن کسی عمر میں فوت ہو بچہ یا بوڑھا جنت میں تیس سالہ جوان ہوگا اور اسی عمر پر ہمیشہ رہے گا کیونکہ وہاں دن رات مہینے سال نہیں جس سے عمر بڑھے۔خیال رہے کہ یہاںیردونکے معنی ہیں ہوجائیں گے،یہ معنی نہیں کہ لوٹائے جائیں گے ورنہ بچے کے لیے کلمہ درست کیسے ہو۔(مرقات)۶؎یعنی دوزخی بھی ہمیشہ تیس سالہ رہیں گے اگرچہ ان کے قد بہت بڑے ہوں گے۔یہ عمر اس لیے تجویز کی گئی تاکہ عیش و تکلیف پوری پوری ہوں۔خیال رہے کہ یہاں چھوٹے دوزخیوں سے مراد کفار کے بچے نہیں بلکہ کم عمر بالغ کافر مراد ہیں،ان کے بچوں کے متعلق دوسری حدیث میں ہےھم عصافیر الجنۃوہ جنت کی چڑیاں ہوں گے،الله تعالٰی کفار کے بے سمجھ بچوں کو دوزخ نہ دے گا۔(مرقات)کیونکہ دوزخیوں سے کہا "وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ"تم کو اپنے اعمال ہی کی سزا دی جاوے گی،چھوٹے بچے کے پاس بدعقیدگی بدعملی ہے ہی نہیں۔۷؎یعنی اگر وہ موتی دنیا میں آجاوے تو پورب پچھم کو روشن کردے،آفتاب کی روشنی پر اس کی روشنی غالب آجاوے۔۸؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض جنتی اولاد چاہیں گے اور ان کے اولاد ہوگی مگر اولاد کی پیدائش اس کی پرورش اس کا تیس سالہ جوان ہوجانا ایک ہی گھڑی میں ہوگا،وہ بچے یا تو دنیاوی عورتوں سے ہوں گے یا حور کے شکم سے۔معلوم ہوا کہ حور سے اولاد ہوسکتی ہے کہ جنتی نورانی ہیں اور حوریں نور مگر اولاد کی خواہش پر انہیں اولاد ملے گی اسی نوری مخلوق سے۔۹؎یہ فرمان اسحق ابن ابراہیم کا اپنی رائے سے ہے کہ مؤمن وہاں چاہے گا نہیں۔حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ چاہے گا اور اس کے اولاد ہوگی بہرحال امکان یا وقوع بتارہا ہے کہ جنتی لوگوں کے حوروں سے اولاد ہوگی یا ہوسکے گی۔جو لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نور ہیں تو آپ کے اولاد کیسے ہوئی نور کے اولاد نہیں ہوتی،وہ اس حدیث پر غور کریں کہ جنتی لوگ اور حوریں نورانی مخلوق ہیں مگر ان کے اولاد ہوگی،حوریں تو اولاد آدم بھی نہیں ہیں مگر اولاد ہوگی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5648