Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5648

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ، وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ". وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: "وَمَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، يُرَدُّونَ بَنِي ثَلَاثِينَ فِي الْجَنَّةِ لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ".
وَبِهَذَا الإسْنَاد قَالَ: "إِنَّ عَلَيْهِمُ التِّيجَانَ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: "الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي". وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: "إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ الْوَلَدَ كَانَ فِي سَاعَةٍ، وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَرَوَىَ ابْنُ مَاجَهْ الرَّابِعَةَ وَالدَّارِمِيُّ الأَخِيرَةَ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أدنى أهل الجنة الذي له ثمانون ألف خادم، واثنتان وسبعون زوجة، وتنصب له قبة من لؤلؤ وزبرجد وياقوت كما بين الجابية إلى صنعاء". وبهذا الإسناد قال: "ومن مات من أهل الجنة من صغير أو كبير، يردون بني ثلاثين في الجنة لا يزيدون عليها أبدا، وكذلك أهل النار".
وبهذا الإسناد قال: "إن عليهم التيجان أدنى لؤلؤة منها لتضيء ما بين المشرق والمغرب".
وبهذا الإسناد قال: "المؤمن إذا اشتهى الولد في الجنة كان حمله ووضعه وسنه في ساعة كما يشتهي". وقال إسحاق بن إبراهيم في هذا الحديث: "إذا اشتهى المؤمن في الجنة الولد كان في ساعة، ولكن لا يشتهي"، رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب. وروى ابن ماجه الرابعة والدارمي الأخيرة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا ۱∞؎جس کے اسّی ہزار خادم ہوں اور بہتر بیویاں ۲؎اور اس کے لیے موتیوں زبرجد اور یاقوت کا خیمہ لگایا جاوے گا ۳؎جیساکہ جابیہ اور صنعاء کے درمیان کا فاصلہ ہے۴؎اور اسی اسناد سے ہے فرمایا جو جنتی چھوٹا یا بوڑھا مرجاوے گا وہ جنت میں تیس سال کا بنادیا جاوے گا،یہ لوگ اس عمر سے کبھی نہ زیادہ ہوں گے۵؎اسی طرح آگ والے لوگ ۶؎اور اسی اسناد سے ہے کہ فرمایا ان پر تاج ہوں گے جنکا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دےگا۷؎اوراسی اسناد سے ہے فرمایا مؤمن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اس کا جننا اس کا عمر رسیدہ ہونا پل بھر میں ہوجاوے گا جیسا وہ چاہے ۸؎اور کہا اسحاق ابن ابراہیم نے اس حدیث کے متعلق کہ جب مؤمن جنت میں اولاد چاہے گا تو ایک پل میں ہوجاوے گی مگر وہ چاہے گا نہیں۹؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابن ماجہ نے چوتھی حدیث اور دارمی نے آخری حدیث نقل فرمائی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ادنیٰ سے مراد کم بیویوں والا کم خدام والا جنتی ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔وہاں ادنی کوئی نہیں سب اعلٰی ہیں،ہاں بعض بہت ہی اعلی ہیں،دیکھو نبی سب اعلی ہیں مگر بعض بہت اعلیٰ"تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ"اور فرمایا "وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ۲؎جن میں سے دو تو حورعین ہیں،باقی دنیا کی وہ بیوی جو اس جنتی کے نکاح میں یا حق نکاح میں فوت ہوئی اور وہ عورت جو کنواری مری یا جس کا خاوند کافر مرا یہ مؤمنہ مری لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ ایک جنتی کو دو حور عین عطا ہوں گی مگر یہاں مرقات نے کہا کہ دو بیویاں دنیا کی عورتیں اور ستر بیویاں حور۔اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان ستر حوروں میں دو حورعین باقی اڑسٹھ دوسری حوریں۔۳؎یعنی اس خیمہ کی ساخت تو زبرجد لکڑی کی ہوگی مگر اس میں موتی ویاقوت جڑے ہوں گے۔(مرقات)لہذا یہ حدیث غریب ہے۔۴؎یعنی اس خیمہ کی لمبائی چوڑائی ایسی ہوگی کہ اس کے دو کناروں میں فاصلہ وہ ہوگا جو جابیہ اور صنعاء شہروں میں ہے۔پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ جابیہ شام کا ایک شہر ہے اور صنعاء یمن کی مشہور بستی ہے ان میں فاصلہ بہت ہی دراز ہے۔۵؎یعنی دنیا میں مؤمن کسی عمر میں فوت ہو بچہ یا بوڑھا جنت میں تیس سالہ جوان ہوگا اور اسی عمر پر ہمیشہ رہے گا کیونکہ وہاں دن رات مہینے سال نہیں جس سے عمر بڑھے۔خیال رہے کہ یہاںیردونکے معنی ہیں ہوجائیں گے،یہ معنی نہیں کہ لوٹائے جائیں گے ورنہ بچے کے لیے کلمہ درست کیسے ہو۔(مرقات)۶؎یعنی دوزخی بھی ہمیشہ تیس سالہ رہیں گے اگرچہ ان کے قد بہت بڑے ہوں گے۔یہ عمر اس لیے تجویز کی گئی تاکہ عیش و تکلیف پوری پوری ہوں۔خیال رہے کہ یہاں چھوٹے دوزخیوں سے مراد کفار کے بچے نہیں بلکہ کم عمر بالغ کافر مراد ہیں،ان کے بچوں کے متعلق دوسری حدیث میں ہےھم عصافیر الجنۃوہ جنت کی چڑیاں ہوں گے،الله تعالٰی کفار کے بے سمجھ بچوں کو دوزخ نہ دے گا۔(مرقات)کیونکہ دوزخیوں سے کہا "وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ"تم کو اپنے اعمال ہی کی سزا دی جاوے گی،چھوٹے بچے کے پاس بدعقیدگی بدعملی ہے ہی نہیں۔۷؎یعنی اگر وہ موتی دنیا میں آجاوے تو پورب پچھم کو روشن کردے،آفتاب کی روشنی پر اس کی روشنی غالب آجاوے۔۸؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض جنتی اولاد چاہیں گے اور ان کے اولاد ہوگی مگر اولاد کی پیدائش اس کی پرورش اس کا تیس سالہ جوان ہوجانا ایک ہی گھڑی میں ہوگا،وہ بچے یا تو دنیاوی عورتوں سے ہوں گے یا حور کے شکم سے۔معلوم ہوا کہ حور سے اولاد ہوسکتی ہے کہ جنتی نورانی ہیں اور حوریں نور مگر اولاد کی خواہش پر انہیں اولاد ملے گی اسی نوری مخلوق سے۔۹؎یہ فرمان اسحق ابن ابراہیم کا اپنی رائے سے ہے کہ مؤمن وہاں چاہے گا نہیں۔حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ چاہے گا اور اس کے اولاد ہوگی بہرحال امکان یا وقوع بتارہا ہے کہ جنتی لوگوں کے حوروں سے اولاد ہوگی یا ہوسکے گی۔جو لوگ کہتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نور ہیں تو آپ کے اولاد کیسے ہوئی نور کے اولاد نہیں ہوتی،وہ اس حدیث پر غور کریں کہ جنتی لوگ اور حوریں نورانی مخلوق ہیں مگر ان کے اولاد ہوگی،حوریں تو اولاد آدم بھی نہیں ہیں مگر اولاد ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5648