Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5645

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَابُ أُمَّتِي الَّذِينَ (1) يَدْخُلُونَ مِنْهُ الْجَنَّةَ عَرْضُهُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ الْمُجَوِّدِ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّهُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْهِ حَتَّى تَكَادُ مَنَاكِبُهُمْ تَزُولُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَقَالَ: يَخْلُدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ يَرْوِي الْمَنَاكِيرَ.

وعن سالم عن أبيه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "باب أمتي الذين (1) يدخلون منه الجنة عرضه مسيرة الراكب المجود ثلاثا، ثم إنهم ليضغطون عليه حتى تكاد مناكبهم تزول". رواه الترمذي وقال: هذا حديث ضعيف، وسألت محمد بن إسماعيل عن هذا الحديث فلم يعرفه وقال: يخلد بن أبي بكر يروي المناكير.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سالم سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میری امت کا وہ دروازہ جس سے وہ جنت میں داخل ہوں گے اس کی چوڑائی تیز سوار کی رفتار سے تین سال کا ہے۲؎پھر وہ اس پر تنگ ہوں گے حتی کہ قریب ہوگا کہ ان کے کندھے مل جاویں۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے۴؎اور میں نے محمد ابن اسمعیل سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا،فرمایا یخلد ابن ابی بکر منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۵؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت سالم جلیل القدر تابعی ہیں،سیدنا عبدالله ابن عمر کے فرزند ہیں اور حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ کے پوتے۔امام مالک فرماتے ہیں کہ سالم کے زمانہ میں ان سے بہتر کوئی نہ تھا نہایت حق گو،بے خوف،بڑے عالم عابد، زاہد،حجاج ابن یوسف علیہ السلام جیسے ظالم حاکم سے بہت سختی سے بات کرتے تھے، ۱۰۶ھ؁ ایک سو چھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔(اشعہ و اکمال و مرقات وغیرہ )آپ کی اکثر روایات اپنے والد حضرت عبدالله ابن عمر سے ہیں۔۲؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں تین سے مراد تین سال ہیں نہ کہ تین دن حضور کی امت کے داخلہ کے بہت دروازے ہیں جن کی فراخی مختلف ہے،یہاں ایک دروازے کی فراخی کا ذکر ہے اور چالیس سال والی روایت میں دوسرے دروازے کا تذکرہ ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔۳؎یعنی وہ دروازہ اس قدر وسعت کے باوجود ان جنتیوں پر تنگ ہوگا کہ ان کے کندھے گویا مل جاویں۔۴؎کیونکہ اس حدیث کے الفاظ دوسری صحیح احادیث کے خلاف ہیں۔۵؎یہاں صاحب مشکوۃ سے خطا ہوئی،ان کا نام خالد ابن ابی بکر ہے نہ کہ یخلد،ترمذی اور اسماءالرجال کی کتابوں میں ان کا نام خالد ہی ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5645