Main Icon

باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5634

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ} [الواقعة: 34] ، قَالَ: "ارْتفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعنه عن النبي -صلى الله عليه وسلم- في قوله تعالى: {وفرش مرفوعة} [الواقعة: 34] ، قال: "ارتفاعها لكما بين السماء والأرض مسيرة خمس مئة سنة". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی الله تعالٰی کے فرمان کے بارے میںوفرش مرفوعۃفرمایا ان بستروں کی بلندی ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اسفرشکی بہت تفسیریں کی گئیں ہیں: (۱)جنت کے ایک درجے کا فرش زمین دوسرے درجے کے فرش زمین سے اتنا اونچا ہے جتنا آسمان زمین سے اونچا(۲)جنتی لوگوں کے گھروں میں جو چارپائیاں ہوں گی جن پر ان کے بستر ہوں گے ان کے پائے اتنے اتنے اونچے (۳)فرش سے مراد وہاں کی حوریں اور دوسرے بیویاں ہیں۔بلندی سے مراد درجے کی بلندی ہے یعنی دنیا کی عورتوں کو ان عورتوں سے کچھ نسبت ہی نہیں جیسے زمین و آسمان میں فرق ہے ویسے ہی انکے درجوں میں فرق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5634